.

علامہ احمد العسیر لبنان میں داعش کے امیر ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک لبنانی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ راسخ العقیدہ عالم دین احمد العسیر بہت جلد عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے لبنان میں امیر بن سکتے ہیں۔

اخبار الجمہوریہ نے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے لبنان میں نہ صرف سکیورٹی بلکہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے اور لبنان تک توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے داعش نے شمالی شام سے مدد کی درخواست کی ہے۔

علامہ احمد العسیر حالیہ برسوں کے دوران شامی صدر بشارالاسد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت ان کے حامیوں کی مخالفت میں سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔وہ شامی صدر کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے سنی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں کے حامی ہیں۔

گذشتہ سال لبنان کے ایک فوجی جج نے احمد العسیر کو جولائی 2013ء میں جنوبی شہر صیدا میں جھڑپوں کے دوران قتل اور ارادہ قتل کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنانے کی تجویز دی تھی۔تاہم وہ زیر حراست نہیں بلکہ مفرور ہیں۔

شیخ احمد العسیر نے اپریل 2013ء میں صیدا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:''یہ ہر مسلمان کی ذمے داری ہے کہ وہ اگر شام میں اپنے بھائیوں کی مدد اور ان کی مساجد اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے جا سکتا ہے تو وہاں وہ ضرور جائے''۔

واضح رہے کہ لبنانی جماعتیں شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح تحریک کے حوالے سے منقسم ہیں۔شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت بعض جماعتیں صدر بشارالاسد کی دامے ،درمے ،سخنے حمایت کررہی ہیں۔

حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجو اس وقت شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ داعش اور دوسرے باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہے جبکہ لبنان کے اہل سنت اور ان کی جماعتیں شامی صدر اور حزب اللہ کی مخالف ہیں اوروہ سنی باغیوں کی حمایت کررہی ہیں۔اس بنیاد پر اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلح نوجوانوں کے درمیان لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس اور جنوبی شہر صیدا میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔