غزہ: مظاہرین کی یو این ہیڈکوارٹرز پر دھاوے کی کوشش

حماس کے تحت پولیس نے بے گھر مظاہرین کو منتشر کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ شہر میں بیسیوں فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ سے تباہ حال اپنے علاقے کی تعمیرنو کے لیے وعدے پورے نہ کرنے پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور انھوں نے عالمی ادارے کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے۔

غزہ شہر میں بدھ کے روز اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کے باہر قریباً دو سو افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔انھوں نے ٹائر جلائے اور پتھراؤ کیا۔ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کی گذشتہ موسم گرما میں تباہ کن بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے تھے اور ابھی تک بے گھر ہی ہیں۔انھیں شکایت تھی کہ عالمی ادارہ ان کی بحالی کے لیے اقدامات نہیں کررہا ہے۔

ان میں سے بعض مظاہرین نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بولنے کی کوشش کی لیکن اسرائیلی محاصرے کا شکار علاقے میں ڈی فیکٹو طاقت کی حامل حماس کے پولیس اہلکاروں نے ان مظاہرین کو روک دیا اور پھر منتشر کردیا۔

تاہم اقوام متحدہ نے ایک بیان میں مظاہرین کی حملے کی کوشش کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پہلے سے طے شدہ مظاہرے کے لیے سکیورٹی کا خاطر خواہ اور بروقت انتظام نہیں کیا تھا حالانکہ ان کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ حماس کو اپنے عملے کے تحفظ کے ضمن میں مکمل ذمے دار قرار دیتی ہے۔اس مظاہرے سے ایک روز قبل ہی اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے امدادی ایجنسی اُنروا نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کی جولائی اور اگست میں تباہ کن بمباری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بننے والے ہزاروں مکانوں کی ازسر نو تعمیر نہیں کرسکتی ہے کیونکہ امداد دینے والے ممالک اور اداروں نے اپنے وعدے ایفاء نہیں کیے ہیں۔

اس پچاس روزہ جنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے اور وہ ابھی تک اپنی چھت سے محروم ہی ہیں۔اسرائیلی حملوں میں قریباً بائیس سو فلسطینی شہید ہوئے تھے اور مزاحمت کاروں کے جوابی حملوں یا ان کے ساتھ جھڑپوں میں تہتر اسرائیلی مارے گئے تھے۔ان میں سڑسٹھ فوجی تھے۔

انروآ کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کو دیے جانے والے زرتلافی کی عدم ادائی کے بعد انھیں رہنے کے لیے متبادل انتظام کرنا ہوگا اور اس صورت میں ان میں سے بہت سے خاندان رہنے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت اسکولوں اور اداروں کا رُخ کر سکتے ہیں جبکہ وہاں پہلے ہی بارہ ہزار افراد مقیم ہیں۔

اسرائیلی فوج کے حملوں میں تباہ شدہ بعض عمارتوں کی دوبارہ تعمیر کا تو آغاز ہوچکا ہے لیکن ماہرین کا کہناہے کہ اگر اسرائیل غزہ کی پٹی کا گذشتہ آٹھ سال سے جاری زمینی ،فضائی اور بحری محاصرہ ختم بھی کردے تو تب بھی تعمیرنو کے تمام منصوبوں کی تکمیل میں کئی سال لگ جائیں گے۔حماس کے ایک عہدے دار نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر تعمیر نو کے وعدوں کو تیز رفتاری سے عملی جامہ نہ پہنایا گیا تو غزہ کی پٹی کا علاقہ انتہا پسندوں کی پرورش گاہ بن سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں