.

لیبیا ہوٹل دھماکے کی سلامتی کونسل کی طرف سے مذمت

سلامتی کونسل کا سیاسی فریقوں کو اقوام متحدہ سے تعاون پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے ایک مذمتی متفقہ بیان میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ہوٹل پر کیے جانے والے خود کش دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

طرابلس کے اس ہوٹل میں ایک امریکی اور ایک فرانسی شہری سمیت مجموعی طور پانچ غیر ملکی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں فلپائن اور جنوبی کوریا کے شہری بھی شامل ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب پہلے عسکریت پسندوں نے ایک بارود بھری گاڑی کو ہوٹل سے ٹکرایا اور پھر ہوٹل کی حفاظت پر مامور محاظین کو نشانہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں خود کش حملہ آور ہوٹل میں داخل ہو کر اکیسویں منزل تک پہنچ گئے جہاں انہیں گھیرے میں لیا گیا تو انہوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

واضح رہے اس موقع پر الفجر کی حمایت یافتہ لیبیا کی حکومت کے اعلی عہدے دار بھی موجود تھے۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں بحفاظت ہوٹل سے نکال لیا۔ اس واقعے کے خلاف سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اس مذمتی بیان میں سلامتی کونسل کے ارکان نے لیبیا کے سیاسی اور دوسرے گروپوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے شروع کیے گئے مذاکرات میں تعاون کرنے کے لیے بھی کہا، تاکہ ملک کو درپیش سیاسی اور سکیورٹی کے چیلنجوں کا خاتمہ ممکن ہو۔

اقوام متحدہ کے سفیر برناڈینولیون ان دنوں لیبیا میں قائم دو متوازی حکومتوں اور پارلیمنٹوں کے درمیان ایک معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔