.

یمن: حوثیوں سے امریکی رابطے، پینٹاگان نے تصدیق کر دی

القاعدہ کے خلاف انٹیلی جنس شئیرنگ کے لیے معاہدہ نہیں ہوا: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام یمن میں ملاقات حوثی ملیشیا کے ساتھ کر رہے ہیں جس نے یمنی صدر منصور ہادی کے استعفے پر زور دے رکھا ہے۔

تاہم پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی حوثیوں سے ان ملاقاتوں کے نتیجے میں کوئی ایسا معاہدہ عمل میں نہیں آیا ہے، جو القاعدہ کے حوالے سے انٹیلی جنس شئیرنگ کا باعث بنے۔

جا ن کربی نے کہا '' یمن میں موجود سیاسی بحران کے لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ امریکی حکام یمن میں مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، کیونکہ یمن کی سیاسی صورت حال سخت غیر یقینی اور پیچیدہ ہے۔''

پینٹاگان کے ترجمان نے مزید کہا '' یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ یمن کے واقعات میں حوثیوں کی شرکت کے بعد ضروری ہے کہ ان کا نکتہ نظر جانا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ ان کے عزائم کیا ہیں تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے، لہذا بین الاقوامی پارٹنرز کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ان سے بات کریں۔''

جان کربی نے یہ بھی کہا '' حوثیوں کے ساتھ جزیرہ نما عرب کے لیے القاعدہ کی شاخ کے بارے میں انٹیلی جنس شئیرنگ کے لیے ایسا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا، جو اس طرح کی ضروتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ''

واضح رہے امریکا نے القاعدہ کے خلاف یمنی بحران کے باوجود جنگ جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز بھی القاعدہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس ڈرون حملے کے دوران القاعدہ سے وابستہ تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

واشنگٹن نے یمن حکومت کے ساتھ القاعدہ کے خلاف مشترکہ کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ یمن میں خصوصی امریکی فوجیوں کا ایک چھوٹا دستہ بھی موجود ہے۔