.

اردن پائیلٹ کے بدلے میں عراقی خاتون کی رہائی کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ داعش اپنے زیر حراست پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو رہا کردے تو ان کا ملک سزائے موت پانے والی ناکام خودکش بمبار عراقی خاتون ساجدہ الریشاوی کو حوالے کرنے کو تیار ہے۔

اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بدھ کو نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پائِیلٹ لفٹیننٹ معاذ کی جان بخشی کر دی جاتی ہے اور اس کو رہا کردیا جاتا ہے تو ساجدہ الریشاوی کو بھی رہا کردیا جائے گا۔

ترجمان نے داعش کے ہاتھوں یرغمال جاپانی صحافی کینجی گوٹو کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے حالانکہ گذشتہ روز جاپانی حکومت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ان دونوں یرغمالیوں کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے جاپان اور اردن مل کر کام کررہے ہیں۔

داعش نے اپنے زیر حراست جاپانی صحافی کے بدلے میں اردن میں جیل میں قید عراقی خاتون ساجدہ الریشاوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔داعش کے زیر قبضہ شام اور عراق کے علاقوں میں نشریات پیش کرنے والے البیان ریڈیو نے ایک نشریے میں ساجدہ الریشاوی کو ''ہماری بہن'' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس خاتون کو رہا کردیا جاتا ہے تو پھر جاپانی صحافی کینجی گوٹو کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔

اس عراقی خاتون بمبار کو عمان کے ایک ہوٹل پر 9 نومبر 2005ء کو تہرے بم حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔گرفتاری کے بعد اس خاتون کو اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

الریشاوی نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ''میرے خاوند نے اپنا بم پھوڑدیا تھا۔میں نے بھی اپنا بم پھوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن میں اس میں ناکام رہی تھی''۔اس خاتون نے مزید کہا تھا کہ وہ عراقی شہری ہے اور اس کو اردن میں ہوٹلوں کو بم حملوں میں نشانہ بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اپنے اعترافی بیان میں اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ''میرا خاوند ہی سب کچھ منظم کیا کرتا تھا''۔

اردن کی ایک فوجداری عدالت نے ملزمہ کو سنہ 2006ء میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن اسی سال حکومت نے ایک پالیسی کا نفاذ کیا تھا جس کے تحت موت کی سزائیں معطل کردی گئی تھیں۔یادرہے کہ عراق میں القاعدہ کے رہ نما ابو مصعب الزرقاوی نے عمان میں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔وہ خود جون 2006ء میں امریکی فوج کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

اردن اپنے جس 26 سالہ پائیلٹ معاذ الكساسبۃ کی بازیابی کا مطالبہ کررہا ہے،اس کو داعش کے جنگجوؤں نے شام کے شمالی علاقے میں 24 دسمبر کو گرفتار کیا تھا۔داعش کے خلاف مشن کے دوران اردن کا ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔داعش نے اس طیارے کو مارگرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے جنگجوؤں نے طیارے کے پائیلٹ کو زندہ حالت میں پکڑ لیا تھا۔اس کے والد نے داعش سے اپنے بیٹے کی جان بخشی کی اپیل کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ ان کے بیٹے کے ساتھ مہمان کا برتاؤ کریں۔