اسرائیل:غرب اردن میں 430 مکانات کی تعمیر کے ٹینڈرز جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید چارسو تیس مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کردیے ہیں۔

فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی نگرانی کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ ڈینیل سائیڈمن نے ان مکانوں کی تعمیر سے متعلق اس نئی پیش رفت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اکتوبر 2014ء کے بعد اس قسم کا یہ پہلا اعلان ہے اور17 مارچ کو اسرائیل میں عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے یہ ہرگز بھی آخری اعلان نہیں ہے۔اس سے یہودی آبادکاری کا ایک ''سیلاب'' آجائے گا۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ یہ نئے مکانات دریائے اردن کے مغربی کنارے میں پہلے سے موجود چار بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے۔ان میں 112 ایڈم ،156 ایلکانا ،78ایلفائی میناش اور 84 کیریات عربہ میں تعمیر ہوں گے۔

سائیڈمین کا گروپ غرب اردن کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔انھوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی آنے والے دنوں میں اس طرح کے منصوبے کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ نئے ٹینڈرز کے اجراء کا مقصد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کی مارچ میں ہونے والے عام انتخابات میں جیت کی راہ ہموار کرنا ہے اور یہودی آبادکاروں کےووٹوں کا حصول ہے اور یہ اقدام نیتن یاہو کے علم میں لانے کے بعد ہی کیا گیا ہے۔انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کا دائیں بازو کی جماعتوں سے مقابلہ ہے

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت القدس پر قبضہ کر کے اسے اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔ اس اقدام کو بین الاقوامی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی آبادکاروًں کے لیے بستیوں کی تعمیر شروع کردی تھی۔عالمی برادری ان بستیوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی شمار کرتی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مہم شروع کررکھی ہے۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں