.

صدر السیسی سیناء میں حملوں کے بعد وطن لوٹ آئے

بیرونی دورہ مختصر،ادیس ابابا میں افریقی یونین کے اجلاس میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے جزیرہ نما سیناء میں مشتبہ جنگجوؤں کے حملوں کے بعد اپنا بیرونی دورہ مختصر کردیا ہے اور وہ ایتھوپیا سے قاہرہ لوٹ آئے ہیں۔

صدر السیسی ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں افریقی یونین کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔اس دوران جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ انصار بیت المقدس نے سکیورٹی فورسز پر پے درپے حملے کرکے کم سے کم تیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

مصر کے سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ سیناء میں جمعہ کو جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں دو کم سن بچے بھی مارے گئے ہیں۔ان میں چھے ماہ کے ایک بچے کو سر میں گولی لگی ہے اور چھے سال کا بچہ راکٹ کے دھماکے میں مارا گیا ہے۔فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

انصار بیت المقدس نے ایک ٹویٹر اکاؤنٹ پر غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے ساتھ واقع جزیرہ نما سیناء اور صوبہ سویز میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی ذمے داری قبول کی ہے اور یہ مصری فورسز پر حالیہ مہینوں کے دوران تباہ کن حملے ہیں۔اس گروپ نے کہا ہے کہ اس نے شیخ زوید ،العریش اور رفح میں بیک وقت حملے کیے ہیں۔

سکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کے مطابق صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں جمعرات کو ایک فوجی ہیڈکوارٹرز ،ایک بیس اور ہوٹل پر بم حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں پچیس افراد ہلاک اور اٹھاون زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کے سرکاری اخبار الاہرام نے اطلاع دی ہے کہ العریش میں اس کا دفتر دھماکے میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔یہ دفتر فوجی عمارتوں کے بالمقابل واقع تھا۔تاہم اخبار نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آیا اس کے دفتر کو بھی براہ راست حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

مشتبہ جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی قصبے رفح میں ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کرکے ایک آرمی میجر کو ہلاک اور چھے اہلکاروں کو زخمی کردیا۔سویز شہر میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک پولیس افسر مارا گیا ہے اورالعریش کے جنوب میں واقع ایک چیک پوائنٹ پر مسلح جنگجوؤں کے حملے میں چار فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پورٹ سعید شہر میں ایک مشتبہ جنگجو کو بجلی کے ایک ٹرانسفارمر کے ساتھ بم لگانے کی کوشش کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں مصر میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی ہے اور مصری حکومت کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مرتبہ پھر حمایت کا یقین دلایا ہے۔

واضح رہے کہ سیناء میں انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجو گروپ 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں سیکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

انصار بیت المقدس نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ساتھ الحاق کررکھا ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مرسی نواز مظاہرین کے خلاف فوج اور پولیس کے کریک ڈاؤن کے ردعمل میں یہ حملے کررہی ہے۔مصری سکیورٹی فورسز انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجو گروپ کے خلاف گذشتہ مہینوں سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں لیکن ابھی تک وہ ان جنگجو گروپوں کا مکمل صفایا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں اور وہ آئے دن سکیورٹی فورسز پر انتقامی حملے کرتے رہتے ہیں۔