عراق: شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں قتل عام کی تحقیقات کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے ملک کے شمالی صوبے دیالا میں گذشتہ سوموار کو اہل تشیع مسلک کے مسلح گروپوں کے ہاتھوں مقامی سنی آبادی کے وحشیانہ قتل عام کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان رافد جبوری نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وزیر اعظم حیدر العبادی نے شمالی علاقوں میں اہل تشیع مسلک کے مسلح گروپوں کے ہاتھوں سنی شہریوں کے قتل کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرا دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ ملک کے شمالی صوبے دیالا کے سنی قبائلی عمایدین نے الزام عاید کیا تھا کہ گذشتہ دنوں دولت اسلامی"داعش" کے خلاف آپریشن کے دوران شیعہ ملیشیا نے 70 عام شہری قتل کر دیے تھے۔ قتل عام کا یہ واقعہ المقدادیہ کے شمالی قصبے بروانہ میں ‌پیش آیا تھا۔

بروانہ، شمالی دیالا کا وہ واحد قصبہ ہے جس پر 'داعش' قبضہ نہیں کر سکی۔ اس کے علاوہ علاقے کے بقیہ 22 دیہات سے عراقی فوج کے انخلاء کے بعد دولت اسلامی کے شدت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران عراقی فوج کے دیالا میں دولت اسلامی کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری بروانہ قصبے میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اپنے علاقوں اور گھر بار چھوڑنے والے ان بے سر و سامان شہریوں پر شیعہ ملیشیا نے حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اگرچہ عراقی فوج اور اس کے حلیف شیعہ ملیشیا نے دیالا کو داعش سے آزاد کرانے کا دعویٰ‌ کیا ہے تاہم داعش کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں بڑی تعداد میں عام شہری قتل کر دیے گئے۔ صرف بروانہ قصبے میں 70 عام شہری مارے گئے جبکہ مختلف کارروائیوں میں عراقی فوج اور شیعہ ملیشیا کے 400 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب عراقی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ بروانہ قصبے میں‌ فوج کی موجودگی میں قتل عام نہیں ہوا ہے۔ فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ شیعہ اور سنی ملیشیا کے درمیان انتقامی کارروائیوں کا الزام بے بنیاد ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے تحقیقات کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ ملیشیا اس واقعے میں ملوث ہے۔

اقوام متحدہ کے عراق کے لیے خصوصی ایلچی نیکولائے میلاڈینوف نے سنی شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کی تحقیقات کا خیر مقدم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں