حزب اللہ اسرائیل سے نئی جنگ نہیں چاہتی: حسن نصراللہ

صہیونی فوج کو انتباہ پر اکتفا، لیکن شیعہ ملیشیا جنگ سے خوف زدہ نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی جنگجو تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ ان کی شیعہ ملیشیا اسرائیل کے ساتھ نئی محاذ آرائی نہیں چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے صہیونی فوج کو خبردار بھی کیا ہے کہ اگر اس نے حملہ کیا تو وہ تنازعے کو لبنان کی سرحدوں سے ماورا لے جانے سے بھی نہیں ہچکچائے گی۔

انھوں نے جمعہ کو بیروت کے جنوبی علاقے میں اپنے مضبوط گڑھ میں ایک ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ''اسرائیل کی جانب سے مستقبل میں کسی حملے کی صورت میں ان کی ملیشیا کا ردعمل صرف لبنانی علاقے تک محدود نہیں رہے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں لیکن مزاحمت (حزب اللہ) عسکری لحاظ سے جنگ کے لیے بالکل تیار ہے اور ہم جنگ سے خوفزدہ نہیں ہیں''۔ حسن نصراللہ نے یہ تقریر لبنان کی جنوبی سرحد پر شبعافارمز کے علاقے میں حزب اللہ کے اسرائیلی فوج پر میزائل حملے کے دوروز بعد کی ہے۔بدھ کو اس حملے میں دواسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنانی ملیشیا نے یہ حملہ 18 جنوری کو شام کے سرحدی صوبے القنیطرہ میں اپنے ایک قافلے پر اسرائیلی فوج کی فضائی بمباری کے ردعمل میں کیا تھا۔اس حملے میں پاسداران انقلاب ایران کا ایک جنرل اور حزب اللہ کے چھے جنگجو مارے گئے تھے۔

حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا:''میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مزاحمت تادیر محاذ آرائی کے قواعد وضوابط کو تسلیم نہیں کرے گی۔یہ ہمارا قانونی اور اخلاقی حق ہے کہ ہم دشمن کا کسی بھی وقت ،کسی بھی جگہ اور کسی بھی مناسب طریقے سے مقابلہ کریں''۔ وہ تقریر کے دوران مطمئن اورپُرعزم نظر آرہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں