.

اردن کی یرغمال پائیلٹ کی بازیابی کے لیے سرتوڑ کوشش

داعش کا اردن سے جیل میں قید عراقی خاتون کی رہائی کا مطالبہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ہاتھوں جاپانی صحافی کی بہیمانہ ہلاکت کے بعد اپنے پائیلٹ کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کردیں اور اس ضمن میں ہر ممکن اقدام کا عزم کیا ہے۔

اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سرکاری خبررساں ایجنسی پطرا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''پائیلٹ معاذالکساسبہ کی زندگی کے تحفظ اور اس کی محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی''۔

داعش اردن میں قید ایک سزایافتہ عراقی جہادی خاتون کی اس پائیلٹ کے بدلے میں رہائی کا مطالبہ کررہی ہے۔اردن کی حکومت قیدیوں کے اس تبادلے پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کو پہلے معاذالکساسبہ کے زندہ ہونے کا ثبوت مہیّا کیا جائے۔

محمد مومنی کا کہنا تھا کہ ''تمام ریاستی ادارے پائیلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے فعال کردیے گئے ہیں تاکہ اس کو رہائی دلائی جاسکے اور وہ اپنے گھر کو لوٹ سکے''۔

ترجمان نے داعش کے نقاب پوش جنگجو کے ہاتھوں جاپانی صحافی کینجی گوٹو کے سفاکانہ قتل کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے اس صحافی کو بچانے کے لیے جاپانی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔

داعش نے جاپان کو سزا دینے کے لیے دو یرغمال جاپانی شہریوں کے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سرقلم کیے ہیں۔داعش نے گذشتہ ہفتے ایک امدادی کارکن ہارونا یوکاوا کو بہتر گھنٹے کی ڈیڈلائن گزرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے عراق اور شام میں داعش کی جنگ سے متاثرہ ممالک کی امداد کے لیے گذشتہ ماہ بیس کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا۔داعش نے جاپان سے یہ امدادی رقم روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے بجائے دونوں جاپانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تاوان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔جب جاپانی حکومت نے یہ مطالبات نہیں مانے تو داعش کے ایک نقاب پوش جنگجو نے ان دونوں یرغمالیوں کو ذبح کردیا ہے۔

داعش نے اردن میں قید ایک عراقی خاتون کے بدلے میں جاپانی صحافی کی رہائی کے لیے جمعرات کی شام تک کی ڈیڈلائن مقرر کی تھا اور انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک آڈیو ٹیپ میں کہا تھا کہ دوسری صورت میں یرغمال اردنی پائیلٹ کو قتل کردیا جائے گا۔آڈیو پیغام میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا کہ اردنی پائیلٹ بھی قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کا حصہ ہوگا۔

تاہم داعش نے ابھی تک پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو نہ تو قتل کیا ہے اور نہ اس کی جان بخشی کی ہے۔اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بدھ کو نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''اگر پائِیلٹ لفٹیننٹ معاذ کی جان بخشی کر دی جاتی ہے اور اس کو رہا کردیا جاتا ہے تو ساجدہ الریشاوی کو بھی رہا کردیا جائے گا''۔

اس خاتون کو عمان کے ایک ہوٹل پر 9 نومبر 2005ء کو تہرے بم حملوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں سنہ 2006ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔گرفتاری کے بعد اس خاتون کو اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

الریشاوی نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ''میرے خاوند نے اپنا بم پھوڑدیا تھا۔میں نے بھی اپنا بم پھوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن میں اس میں ناکام رہی تھی''۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ''میرا خاوند ہی سب کچھ منظم کیا کرتا تھا''۔اس خاتون کا خاوند اور دو اور خودکش بمبار عمان میں بم دھماکوں میں مارے گئے تھے۔اردن کی ایک فوجداری عدالت نے ملزمہ کو سنہ 2006ء میں قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی لیکن اسی سال حکومت نے ایک پالیسی کا نفاذ کیا تھا جس کے تحت پھانسی کی سزائیں معطل کردی گئی تھیں۔