.

امریکی اتحادیوں کے داعش کے 76 اہداف پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے چھہتر اہداف اور ٹھکانوں پر ستائیس فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں داعش کا کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کا ایک ماہر بھی مارا گیا ہے۔

امریکا کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں کے متعدد یونٹوں اور عمارتوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

داعش مخالف عالمی اتحاد کے صدارتی نائب ایلچی بریٹ میکگرک نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ عراق کے شمالی شہر تل عفر میں داعش کی کار بم بنانے والی ایک فیکٹری کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔قبل ازیں ہفتے کے روز میکگرک نے عراق میں داعش کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر ابو مالک کی ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔وہ سابق صدر صدام حسین کی حکومت میں ہتھیاروں کے ماہر کے طور پر کام کرچکا تھا۔

امریکی سنٹرل کمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ''ابو مالک شمالی شہر موصل کے نزدیک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔اس کی تربیت کی وجہ سے اس دہشت گرد گروپ کو کیمیائی ہتھیار تیار کرنے اور چلانے کی مہارت حاصل ہوئی تھی''۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ''ابو مالک صدام حسین کے دور حکومت میں کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے ایک پلانٹ پر کام کرتا رہا تھا۔ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ سنہ 2005ء میں عراق میں القاعدہ کی تنظیم دولت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوگیا تھا۔اس کی موت سے اس دہشت گرد نیٹ ورک کی بے گناہ لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت پر فرق پڑے گا''۔

ماضی میں امریکا نے ابومالک کو القاعدہ یا داعش کی کوئی بڑی شخصیت قرار نہیں دیا تھا۔اب تک ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ داعش کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود ہیں لیکن اس جنگجو گروپ پر ماضی میں یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے شام میں اپنے مخالفین کے خلاف کلورین گیس استعمال کی تھی۔

ایک دفاعی عہدے دار نے بتایا ہے کہ ابو مالک کا پورا نام صالح جاسم محمد فلاح السباوی تھا۔وہ سنہ 2005ء میں عراق میں القاعدہ کے ساتھ مل کر موصل میں کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی سرگرمیوں میں شریک رہا تھا۔وہ اپنی مہارت کی وجہ سے خطرناک اور مہلک کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے 8 اگست 2014ء کے بعد سے عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر دو ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں داعش کے متعدد سرکردہ جنگجو مارے جاچکے ہیں۔