.

کرد فوج نے تیل کے دو ذخائر"داعش" سے واپس لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی فوج "البیشمرکہ" کے ایک ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ فوج نے کرکوک شہر کے جنوب میں کارروائی کرکے دولت اسلامی "داعش" کے قبضے سے تیل کے دو ذخائر واپس لے لیے ہیں۔

جنوبی کرکوک میں البیشمرکہ کے ایک عہدیدار میجر جنرل رسول قادر نے بتایا کہ کرد فوج اور پولیس نے شہر کے جنوب میں خباز آئل ریفائنری پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں پر یرغمال بنائے گئے ملازمین کو بھی بازیاب کرا لیا ہے۔

جنرل قادر نے بتایا کہ کرد فوج اور پولیس نے کرکوک کے جنوب میں 35 کلومیٹر دور ملا عبداللہ کے مقام پر واقع خباز آئل ریفائنری کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ داعش کے خلاف تازہ آپریشن نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہا ہے جس کے نتیجے میں خباز اور دیگر دیہات سے بھی داعش کو نکال باہر کیا گیا۔ اب آئل ریفائنری اور اس کےآس پاس کے تمام دیہات پر کرد فوج کا کنٹرول قائم ہے۔ انہوں‌ نے بتایا کہ داعش کے مسلح جنگجو اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔

پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ

درایں اثناء عراق کی پارلیمنٹ‌ میں شامل جماعت" اتحاد دولت القانون" کے رکن جاسم محمد جعفر نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی کرکوک کے علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کرد فوج البیشمرکہ، کردوں کی غیر سرکاری ملیشایا، عراقی وزارت داخلہ اور دفاع نے ایک متفقہ فیصلے میں پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مسٹر جعفر کا کہنا تھا کہ حال ہی میں داعشی جنگجوں نے جنوبی کرکوک کے علاقوں مریم بیک، مکتب خالد اور ملا عبداللہ میں داخل ہونے کے کرکوک کے ایک ہوٹل کو دو خود کش دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔ اس کے علاوہ داعشی جنگجوئوں نے فوج کے چھاپہ مار دستوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں‌ نے بتایا کہ کرکوک میں داعشی جنگجو اور ان کے حامی گذشتہ برس جولائی سے داخل ہونا شروع ہوئے تھے۔

جاسم محمد جعفر کا کہنا ہے کہ جلد ہی سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد جنوبی کرکوک اور اس کے متصل علاقوں کو داعشی جنجگجوئوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے روانہ کی جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں‌ داعش نے جنوب مغربی کرکوک گورنری میں داعش نے تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے پر حملہ کرکے اس میں‌ کام کرنے والے 24 ملازمین کو یرغمال بنا لیا تھا جس کے بعد داعش اور کرد فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی ہے۔