.

داعش کوبانی کے نواحی علاقوں سے بھی پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی (عین العرب) میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے شکست کے بعد اب نواحی علاقوں سے بھی پسپائی شروع کردی ہے۔

کرد اور عرب فورسز نے گذشتہ ہفتے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اب وہ اس کے نواحی علاقوں کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ کرد فورسز (وائی پی جی) نے اتوار کی رات کے بعد سے کوبانی کے نواح میں تیرہ دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور انھیں داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑاہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو اتوار کو کوبانی شہر سے چار پانچ کلومیٹر دور تھے اور وہ سوموار کو اب کم سے کم دس کلومیٹر تک پیچھے ہٹا دیے گئے ہیں۔

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کوبانی پر کرد فورسز کے قبضے کو ایک ''بڑی ڈیل'' قراردیا ہے۔انھوں نے بوسٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کو اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔

امریکا اور اس کی قیادت میں اتحادی ممالک نے 8 اگست کے بعد کوبانی میں داعش کے جنگجوؤں اور ان کے اہداف پر سات سو سے زیادہ فضائی حملے کیے تھے اور اس بمباری کے نتیجے ہی میں کرد فورسز کو فتح نصیب ہوئی ہے اور وہ اپنے شہر پر دوبارہ کنٹرول میں کامیاب ہوئے ہیں۔