.

عراق :اجتماعی قبر سے 25 یزیدیوں کی لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی علاقے میں کردفورسز نے ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے جس سے یزیدی اقلیت کے پچیس ارکان کی باقیات ملی ہیں۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں سخت گیر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے قتل کردیا تھا۔

عراق کے شمالی علاقے سنجار سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی عہدے دارمیسر حاجی صالح شاہ نے سوموار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''البیش المرکہ فور؛سز نے گذشتہ روز (اتوار کو) ایک اجتماعی قبر کا پتا چلایا ہے اور اس سے پچیس افراد کی لاشیں ملی ہیں۔یہ یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے مردوں ،بچوں اور خواتین کی لاشیں ہیں اور انھیں داعش نے ہلاک کیا تھا''۔

عراق کے شمالی علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں نے اپنی یلغار کے دوران مبینہ طور پر یزیدی فرقے سے تعلق رک؛ھنے والے سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔عراق کے انسانی حقوق کے وزیر محمد شیاء السودانی نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں نے خواتین اور بچوں سمیت بعض لوگوں کو زندہ ہی دفن کردیا تھا اور انھوں نے قریباً تین سو خواتین کو اغوا کرنے کے بعد باندیاں بنا لیا تھا۔

یزیدی زرتشت مذہب کے ایک قدیم فرقے کے پیروکار ہیں۔ وہ نسلی طور پر کرد ہیں۔داعش کے جنگجوؤں نے اگست 2014ء کے اوائل میں شمالی عراق میں یزیدی آبادی کے دو قصبوں زمار اور سنجار سے کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کو لڑائی کے بعد مار بھگایا تھا اور ان پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ دونوں قصبے شمالی شہر موصل اور خودمختارشمالی علاقے کردستان کے درمیان واقع ہیں۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے زمار اور سنجار پر قبضے کے بعد وہاں کے مکین یزیدیوں کے سامنے تین شرائط پیش کی تھیں۔ایک، وہ اسلام قبول کرلیں۔دوم،جزیہ دیں۔سوم،علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں یا پھر مرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

یزیدیوں کے روحانی پیشوا تحسین علی سعید نے عالمی برادری سے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے امداد کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی داعش کے ہاتھوں نسل کشی کو روکا جائے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ داعش کی شورش کے بعد سے قریباً پانچ ہزار یزیدی مارے گئے تھے۔خواتین اور بچوں سمیت سات ہزار کو اغوا کر لیا گیا تھا اور ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ کردستان ،شام اور ترکی میں دربدر ہونے پر مجبور کردیے گئے تھے۔