.

اردن کا اپنے سفیر کو واپس اسرائیل بھیجنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں متعین اپنے سفیر کو دوبارہ واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اردن نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے اور مسجد الاقصیٰ کے تقدس کے خلاف اقدامات کے ردعمل میں احتجاج کے طور پر نومبر میں اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سوموار کے روز دارالحکومت عمان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفیر کو جلد واپس تل ابیب بھیج دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اردن کو اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سمیت مسلمانوں کے مقدس مقامات کی تولیت کا حق حاصل ہے۔وہ ان کے تقدس کے تحفظ کا بھی ذمے دار ہے اور اس نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ کی توہین کے خلاف احتجاج کیا تھا۔یہود مسجد اقصیٰ کے احاطے کو ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں اور وہ بھی اس پر اپنا حق ملکیت جتلاتے ہیں۔

فلسطینی صہیونی ریاست کے قابض حکام اور انتہا پسند یہودیوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور اس شہر میں گذشتہ چند ماہ سے تنازعے کے دونوں بنیادی فریقوں یہود اور فلسطینیوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس دوران تشدد کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔