.

غزہ کے لیے "یو این" تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ مستعفی

استعفے کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے الزامات کے بعد کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ برس غزہ کی پٹی پراسرائیلی حملوں کے دوران جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ ولیم شاباس نے اسرائیلی الزامات کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں‌ مسٹر شاباس پر تنظیم آزادی فلسطین کے ساتھ اپنی ذاتی مفاد کے لیے تعاون کا الزام عاید کیا تھا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی جانب سے کچھ عرصہ قبل کینیڈین ولیم شابس کی سربراہی میں ‌ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے غزہ کی پٹی میں پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ میں‌ مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

برطانوی خبر رساں‌ایجنسی"رائیٹرز" کے مطابق مسٹر شاباس نے حال ہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں‌ نے کمیٹی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے کمیٹی سے اپنی علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مکتوب کی ایک نقل "رائیٹرز" کو بھی موصول ہوئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بعض الزامات سامنے آنے کے بعد جاری تحقیقات اور مارچ میں رپورٹ جاری کیے جانے کے بعد اس کے نتائج متاثر ہو ہسکتے ہیں۔ اس لیے میں جلد ہی کمیٹی کی قیادت چھوڑ دوں گا۔

ولیمز شاباس کا مزید کنا ہے کہ میں‌ نے سنہ 2012ء میں تنظیم آزادی فلسطین کے بارے میں اپنی قانونی رائے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسی ہی رائے اور مشورہ تھا جو حکومتیں اور دیگر تنظیمیں دیا کرتی ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ میری رائے فلسطین اور اسرائیل اور ان معروف مسائل کے بارے میں‌ تھی جنہیں سبھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ میری اس رائے اور مشورے نے مجھے ناپسندیدہ حملوں کا ہدف بنا دیا تھا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ولیم شابس کی تعیناتی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عاید کیا تھا کہ شاباس فلسطینیوں ‌کے حامی اور اسرائیل کے سخت ناقد ہیں۔ وہ غیر جانب دارانہ تحقیقات نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں ‌نے حال ہی میں اقوام متحدہ سے اپنے منصب پر قائم رہنے کے لیے مشورہ مانگا تھا۔

تاہم گذشتہ روز انہوں‌ نے کمیٹی کو تحریر کیے گئے مراسلے میں لکھا تھا کہ فلسطین میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھنا میری لیے مشکل ہو رہا ہے۔ بہتر ہے کہ میں کمیٹی علاحدہ ہو جائوں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میری قیادت میں‌ اب تک تحقیقات کا بہت سا کام مکمل کر چکی ہے۔ اسے اب اپنی تحقیقات سمیٹنا ہیں۔