.

عراق: نیشنل گارڈ کی تشکیل کے لیے مجوزہ بل منظور

بعث پارٹی کے ارکان سے متعلق حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات کی بھی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی کابینہ نے منگل کو دو مجوزہ قوانین کے مسودوں کی منظوری دی ہے۔ان میں سے ایک قانون کے تحت نیشنل گارڈ کی تشکیل کی جائے گی اور دوسرے قانون کے تحت سابق حکمراں بعث پارٹی کے ارکان سے متعلق حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات کی جائیں گی۔

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے ترجمان رفید جبوری نے کہا ہے کہ اب ان بلوں کو منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے لڑائی کے لیے عراق کے سنی سیاست دان نیشنل گارڈ کے نام سے ایک الگ فورس کی تشکیل کا مطالبہ کررہے تھے۔وہ سابق بعث پارٹی پرعاید پابندی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔

بعث پارٹی مارچ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی عراق پر چڑھائی تک برسراقتدار رہی تھی لیکن سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا کی قیادت میں عبوری انتظامیہ نے بعث پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس کے ارکان کی سرکاری محکموں میں بھرتی یا ان کے کوئی سرکاری و حکومتی عہدہ رکھنے پر پابندی عاید کردی تھِی۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی کے دور حکومت میں بھی اس پابندی کو برقرار رکھا گیا تھا۔