.

مصر میں پھانسی کی سزاؤں پر یورپی یونین کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے مصر میں تھوک کے حساب سے پھانسی کی سزاؤں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سوموار کو تیرہ پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں ایک سو تراسی افراد کو پھانسی کی سزا سناکر مصر نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ سروس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک سوتراسی مدعاعلیہان کے خلاف قتل کے ان مقدمات کا اجتماعی ٹرائل ہی انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق یورپی یونین دوٹوک الفاظ میں سزائے موت کی مخالفت کرتی ہے جو اس کے بہ قول ظالمانہ اور غیر انسانی ہے اور یہ سزا لوگوں کو جرائم میں ملوث ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔

قاہرہ کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف مدعاعلیہان اپیل دائر کرسکتے ہیں۔قبل ازیں ان سزاؤں سے متعلق فیصلے کو توثیق کے لیے مفتی اعظم مصر کے پاس بھیجا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا۔اس کے بعد مشتقل افراد نے قاہرہ کے نواح میں واقع کرادسہ میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا تھا اور تیرہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔