.

اردن کا داعش مخالف جنگ میں زیادہ کردار ادا کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے اپنے پائیلٹ کے بہیمانہ قتل کے بعد امریکا کی قیادت میں عالمی اتحاد کی عراق اور شام میں داعش مخالف جنگ میں زیادہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اردن کی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے عمان میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم داعش کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے اور بالآخر اس گروپ کے خاتمے کے لیے اتحاد میں شامل ممالک کے درمیان کوششوں کو مربوط بنانے کے سلسلے میں بات چیت کررہے ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ شاہ عبداللہ دوم نے بدھ کو اعلیٰ سکیورٹی عہدے داروں کے ایک اجلاس کی صدارت کی ہے۔اس میں داعش مخالف جنگ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے۔اس سے پہلے اردن کی مسلح افواج نے پائیلٹ کے قتل کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔

فوج کے ترجمان جنرل ممدوح العامری نے ایک بیان میں کہا کہ ''شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔اس الم ناک قتل کا اس کے تناسب سے بدلہ لیا جائے گا جس نے تمام اردنیوں کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے''۔

درایں اثناء اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم معاذ الکساسبہ کے قتل کی خبر سننے کے بعد اپنا واشنگٹن کا دورہ مختصر کرکے عمان واپس پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک بیان میں پائیلٹ کے قتل کو دہشت گرد گروپ کا بزدلانہ فعل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام اور سینیٹروں سے ملاقات کی تھی اور ان سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی جانب سے اردن کو اسلحہ مہیا کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ اردن کو داعش کے خلاف جنگ کے لیے تمام ضروری وسائل ،اسلحہ اور آلات مہیا کیے جانے چاہئیں اور اس سلسلے میں کمیٹی کے بعض ارکان صدر براک اوباما کو ایک خط لکھنے والے ہیں جس میں انھیں اردن کو فوجی آلات اور اسلحہ مہیا کرنے کے لیے کہا جائے گا۔