.

ساجدہ الریشاوی اور زیاد الکربولی کو پھانسی دے دی گئی

پھانسیاں اردنی پائیلٹ کو گذشتہ روز زندہ جلانے کا ردعمل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردنی حکومت کے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ زیر حراست شدت پسند خاتون ساجدہ الریشاوی اور القاعدہ کے انتہا پسند زیاد الکربولی کو آج بدھ کے روز پھانسی دے دی گئی ہے۔

اس سے قبل اردنی حکومت کے ایک ذریعے نے منگل کی شام ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ الریشاوی کو دی گئی سزائے موت پر بدھ کو علی الصباح عمل درامد کیا جائے گا۔

ساجدہ الریشاوی کو حال ہی میں "داعش" کی جانب سے اردنی پارئلٹ اور ایک جاپانی یرغمالی کے بدلے میں‌رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم عمان حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیر کی وجہ سے کوئی ڈیل نہیں ہو سکی جس کے بعد داعش نے جاپانی یرغمالی کا سر قلم کرنے کے بعد کل اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو بھی زندہ جلا دیا تھا۔

یاد رہے کہ ساجدہ الریشاوی کو سنہ 2005ء میں عمان میں ناکام خودکش بم دھماکوں میں ‌ملوث ہونے کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کو ساجدہ الریشاوی کے علاوہ متعدد دیگر شدت پسندوں اور القاعدہ کے رکن زیاد الکربولی کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔

قبل ازیں اردنی رکن پارلیمنٹ جمیل النمبری نے "الحدث" ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پھانسی کے سز یافتہ چار دہشت گردوں کو سواقہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جہیں جلد ہی پھانسی دے دی جائے گی۔