.

مصر:مبارک مخالف 230 مظاہرین کو عمرقید کی سزا

عدالت نے 39 کم سن مدعاعلیہان کو 10 ،10 سال قید کی سزا سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں دو سو تیس کارکنان کو عمرقید کی سزائیں سنائی ہیں۔ان میں اس عوامی احتجاجی تحریک کے ایک سرکردہ رہ نما احمد دوما بھی شامل ہیں۔

عدالت نے اسی مقدمے میں ماخوذ انتالیس کم سن مدعاعلیہان کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان تمام دوسو انہتر مدعاعلیہان کو قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں دسمبر 2011ء میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوّث ہونے پر قصوروار دیا گیا ہے۔

مصر میں عمر قید کی مدت پچیس سال ہے۔اب تک غیر اسلامی کارکنان کے خلاف کسی عدالت کا یہ سب سے سخت فیصلہ ہے۔تاہم وہ بدھ کو سنائے گئے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔قبل ازیں برطرف صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کے سیکڑوں کارکنان اور حامیوں کو موت اور عمرقید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

واضح رہے کہ احمد دوما نے سنہ 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ ان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف تحریک میں بھی پیش پیش رہے تھے۔وہ پہلے ہی جیل میں ہیں اور مصر کی عبوری حکومت کے دور میں غیر مجاز احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے کی پاداش میں تین سالہ قید کاٹ رہے ہیں۔