.

اردنی فضائیہ کے حملے، داعش کے 55 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے لڑاکا طیاروں نے شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن میں ایک سرکردہ کمانڈر سمیت پچپن جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے جمعرات کو اپنے مشن کی تکمیل کے بعد دارالحکومت عمان اور مقتول پائیلٹ معاذ الکساسبہ کے آبائی شہر کرک کے اوپر پروازیں کی ہیں۔البتہ ٹی وی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں نے کن مقامات پر داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

عراقی میڈیا کی اطلاع کے مطابق اردن کے فضائی حملوں میں داعش کے پچپن جنگجو مارے گئے ہیں۔ان میں ایک سینیر کمانڈر بھی شامل ہے جو ''نینوا کا شہزادہ'' کے نام سے معروف تھا۔

ان حملوں سے چندے قبل ہی اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے مقتول پائیلٹ کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ''شہید معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ہمارے پیارے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے،اس کے بعد اردن اور اس کی فوج کا ردعمل بہت سخت ہوگا''۔

واضح رہے کہ اردن میں قبل ازیں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شرکت کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے تھے اور بہت سے اردنیوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ان کا ملک اس جنگجو گروپ کے خلاف مہم میں کیوں شریک ہے لیکن اب پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے کے بعد سے یہ اختلاف کم وبیش ختم ہوگیا ہے۔

اردن کے وزیر اطلاعات محمد المومنی نے کہا ہے کہ ''عمان اب داعش کے خلاف جنگ میں زیادہ پُرعزم ہے اور وہ امریکا کی قیادت میں اس جنگجو گروپ کے خلاف جنگ میں مزید اقدامات کرے گا''۔

شاہ عبداللہ پائیلٹ معاذ کے اندوہناک قتل کی اطلاع منظر عام پر آنے کے وقت امریکا کے دورے پر تھے۔وہ اپنا دورہ مختصر کرکے بدھ کو وطن لوٹ آئے تھے اور انھوں نے اپنے فوجی سربراہوں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

انھوں نے واپسی سے قبل واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے پائیلٹ کے بہیمانہ قتل کو بزدلانہ کارروائی قراردیا تھا اور شاہ عبداللہ سے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔