.

اردنی پائلٹ کی بیوہ کو فیس بک سے خاوند کی وفات کی اطلاع ملی

میں نے ابھی تک لرزہ خیز ویڈیو نہیں دیکھی ہے، انوار طراونہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کی جانب سے زندہ جلائے جانے والے اردنی پائلٹ کی بیوہ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ اپنے مرحوم شوہر کی وفات کی خبر آنے تک ان کی بحفاظت واپسی کے لئے پر امید تھیں۔

انوار طراونہ نے ایک انٹرویو میں برطانوی روزنامے 'دی انڈیپینڈنٹ' کو بتایا کہ انہیں بھی فیس بک کے ذریعے سے اپنے شوہر کی ہلاکت کی خبر ملنے پر انہیں یقین ہی نہیں ہوا۔

اردنی فضائیہ کے پائلٹ لیفٹینینٹ معاذ الکساسبہ کا جہاز شام کی حدود میں 24 دسمبر کو مار گرایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اپنی اذیت ناک موت تک وہ داعش کے ہاتھوں قید رہے۔

اردنی حکومت اور داعش کے درمیان مذاکرات میں کساسبہ کے بدلے القاعدہ کی ایک خودکش بمبار خاتون ساجدہ الرشاوی کی رہائی پر بات چیت ہوتی رہی تھی۔

مگر داعش نے اس ہفتے کے اوائل میں ایک ویڈیو ریلیز کی جس میں کساسبہ کو زندہ جلاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ الکساسبہ کو 3 جنوری کو ہی قتل کردیا گیا تھا۔

پچھلے سال جولائی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی انوار طراونہ عمان میں ایک یونیورسٹی میں ایک دھرنے میں شریک تھیں کہ جب ان کی والدہ نے ان کو ایک فون کال کی اور اس کے بعد انہوں نے فیس بک کھول کر خبر دیکھی کہ ان کے شوہر کو قتل کردیا گیا ہے۔

طراونہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ لرزہ خیز وڈیو نہیں دیکھی مگر شوہر کی وفات کی خبر سننے کے فورا بعد ہی وہ بے ہوش ہوگئیں اور انہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔

انہوں نے اخبار کو بتایا کہ ان کے خاوند اس دن اپنے مشن پر جانے کے لئے تیار نہ تھے۔ طراونہ کا کہنا تھا کہ "میرے خاوند نے امید کی کہ آج دھند چھا جائے تاکہ انہیں آج جہاز نہ اڑانا پڑے۔"

ان کا کہنا تھا کہ "میرے خاوند کا کہنا تھا کہ آج کچھ گڑبڑ ہوجائے گی۔ یہ بہت حیرت انگیز تھا کیوںکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا تھا۔