.

شامی فوج کے حملوں میں 82 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی غوطہ پر کم سے کم ساٹھ فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں بیاسی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ شامی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر فضائی بمباری کے علاوہ میزائل بھی فائر کیے ہیں۔ان حملوں میں مرنے والوں میں اٹھارہ بچے شامل ہیں اور سولہ باغی جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

اسدی فوج کا باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر 25 نومبر کے بعد یہ سب سے تباہ کن فضائی حملہ ہے۔تب شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی داعش کے صدر مقام الرقہ پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں پچانوے افراد مارے گئے تھے۔

شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے یہ بمباری مشرقی غوطہ سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ کی جانب سے جمعرات کو دارالحکومت دمشق پر کم سے کم ایک سو بیس مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کی ہے۔ان حملوں میں شہر میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔دمشق کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو شہر میں صورت حال پُرامن رہی ہے اور کوئی مارٹر گولے فائر نہیں کیے گئے ہیں۔

تاہم آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق اسدی فوج نے مشرقی غوطہ پر جمعہ کو بھی فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔واضح رہے کہ شامی فوج نے گذشتہ قریباً دو سال سے دمشق کے نواح میں واقع مشرقی غوطہ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں خوراک اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہوچکی ہے۔شامی فوج اس علاقے پر گاہے گاہے فضائی حملے بھی کرتی رہتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں شامی حکومت پر شہریوں اور مزاحمت کاروں کو بلا امتیاز فضائی حملوں میں ہلاک کرنے کے الزامات عاید کرتی رہتی ہیں۔