.

داعش 20 فی صد فوجی صلاحیتیں کھو بیٹھی:اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی شاہی فضائیہ کے سربراہ جنرل منصور الجبور نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں گذشتہ سال ستمبر میں عراق اور شام میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے دولت اسلامی (داعش) اپنی 20 فی صد فوجی صلاحیتیں کھو بیٹھی ہے۔

جنرل جبور نے اتوار کو عمان میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ اردن نے امریکا کی قیادت میں کل فضائی حملوں میں سے بیس فی صد حملے کیے ہیں اور وہ ان میں عام شہریوں کے بچاؤ کے لیے احتیاط برت رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم داعش کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پُرعزم ہیں''۔ان کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں میں داعش کے سات ہزار جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ انھوں نے یہ اعدادوشمار کہاں سے حاصل کیے ہیں۔

شاہی فضائیہ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ''اردن کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ تین روز میں چھپن فضائی حملے کیے ہیں اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی جارہی ہے۔ان فضائی حملوں میں داعش کے لاجسٹکس مراکز اور اسلحے کے ڈپوؤں کو تباہ کردیا گیا ہے''۔اتوار کو اردن کی جانب سے داعش پر کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے یرغمال پائیلٹ معاذ الکساسبہ کے داعش کے ہاتھوں اندوہناک قتل کا انتقام لینے کا اعلان کیا تھا اور انھوں نے اپنے فوجی کمانڈروں کو داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں مہم میں زیادہ کردار کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

شاہی دیوان کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ''شہید معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ہمارے پیارے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے،اس کے بعد اردن اور اس کی فوج کا ردعمل بہت سخت ہوگا''۔داعش کے جنگجوؤں نے اردن کے اس یرغمال پائیلٹ کو گذشتہ منگل کے روز ایک پنجرے میں بند کرکے زندہ جلا دیا تھا۔

اردن میں قبل ازیں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شرکت کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے تھے اور بہت سے اردنیوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ان کا ملک اس جنگجو گروپ کے خلاف مہم میں کیوں شریک ہے لیکن پائیلٹ معاذ الکساسبہ کے سفاکانہ قتل کے بعد سے یہ اختلاف کم وبیش ختم ہوگیا ہے۔تاہم بعض اردنی اب بھی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ یہ جنگجو گروپ اردن کے خلاف جوابی کارروائیاں کرسکتا ہے۔