.

لبنان کو امریکی ہتھیاروں کی کھیپ مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج کو امریکا سے آنے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پہلی کھیپ مل گئی ہے۔

بیروت میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''لبنانی فوج نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی فوجی گاڑیاں اور توپ خانے ،مارٹر اور بندوقوں کی ڈھائی کروڑ سے زیادہ گولیاں وصول پالی ہیں''۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر نے بیروت کی بندرگاہ پر امریکی ساختہ متعدد حموی اور دوسری فوجی گاڑیاں اور گولہ بارود کے کنٹینر دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ لبنانی فوج کے لیے بھیجے گئے اسلحے اور گولہ بارود کی مالیت ڈھائی کروڑ ڈالرز ہے اور یہ تمام فوجی سازوسامان امداد کی شکل میں دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''لبنانی فوج کی امداد امریکا کی اولین ترجیح ہے۔لبنانی فوج پر حالیہ حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے خطرے کی صورت میں لبنانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم میں اضافہ ہوا ہے اور لبنان کے بہادر فوجیوں کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے جدید ہتھیار مہیا کیے جارہے ہیں''۔

سفارت خانے کے بیان کے مطابق سال 2014ء میں لبنان امریکا سے فوجی امداد حاصل کرنے والا پانچواں بڑا ملک تھا۔امریکا نے گذشتہ سال لبنانی فوج کو دس کروڑ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا امدادی سامان اور اسلحہ دیا تھا۔لبنان سنہ 2006ء کے بعد امریکا سے ایک ارب ڈالرز مالیت کی امداد حاصل کرچکا ہے۔

واضح رہے کہ لبنانی فوج نے حالیہ مہینوں کے دوران شام سے دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف متعدد لڑائیاں لڑی ہیں۔گذشتہ سال اگست میں سرحدی قصبے عرسال میں شام سے درانداز جنگجوؤں اور لبنانی فوج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی ۔اس میں متعدد فوجی اور جنگجو مارے گئے تھے اور جنگجوؤں نے عرسال پر قبضہ کر لیا تھا۔

لبنانی کے مقامی سنی علماء کی مداخلت اور مصالحتی کوششوں کے بعد جہادی اس قصبے سے انخلاء پر آمادہ ہوئے تھے لیکن وہ واپس جاتے ہوئے پچیس تیس لبنانی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔شامی جنگجوؤں نے ان یرغمالیوں میں سے چار کو قتل کردیا ہے اور باقی پچیس کی رہائی کے لیے فی الوقت کوئی کوششیں نہیں کی جارہی ہیں۔

لبنان کو شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی کے منفی مضمرات کا سامنا ہے۔ملک کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہی ہے اور اس کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ لبنان کی سنی آبادی شام میں باغیوں کی حمایت کررہی ہے اور ان متحارب گروپوں کے درمیان دوسرے بڑے شہر طرابلس اور ملک کے دوسرے علاقوں میں گاہے گاہے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔