.

کردوں کا کوبانی کے نواح میں ایک تہائی دیہات پر قبضہ

داعش کے جنگجوؤں کی شکست اور پسپائی کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی کرد فورسز نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمالی شہر کوبانی (عین العرب) کے نواح میں واقع ایک تہائی دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

مقامی کرد جنگجوؤں نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد سے قریباً پندرہ روز قبل داعش کے جنگجوؤں کو کوبانی سے نکال باہر کیا تھا۔اس کے بعد سے ان کی فتوحات اور داعش کی پسپائی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرتے جارہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ''کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران کوبانی کے آس پاس واقع ساڑھے تین سو دیہات میں سے ایک سو اٹھائیس پر قبضہ کر لیا ہے''۔کرد جنگجوؤں نے داعش کے ساتھ گذشتہ چارماہ سے جاری شدید لڑائی کے بعد 26 جنوری کو کوبانی پر مکمل قبضہ کیا تھا۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجو کوبانی کے مشرق اور مغرب سے تو کسی مزاحمت کے بغیر ہی پسپا ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے مغرب میں واقع دیہات پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے شدید لڑائی لڑی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ صوبہ حلب میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں لیکن کرد فورسز تیزی رفتاری سے پیش قدمی کررہی ہیں اور انھیں شام کے دوسرے باغی گروپوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے کوبانی اور اس کے نواح میں داعش کے جنگجوؤں اور ان کے ٹھکانوں پر مسلسل شدید بمباری کی تھی جس کی وجہ سے انھیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اس شہر سے انخلاء پر مجبور ہوگئے تھے۔