.

داعش کے خلاف جلد زمینی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ

زمینی کارروائی کا آغاز عراق کے اندر سے ہو گا: جنرل ایلن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں دہشت گردی میں ملوث تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے خلاف جاری اتحادی فوج کے فضائی آپریشن کے انچارج جنرل جون ایلن نے کہا ہے کہ دولت اسلامی کے خلاف جلد ہی زمین آپریشن کا آغاز ہونے والا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اب جلد ہی زمینی آپریشن شروع ہو جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش مخالف اتحادی آپریشن کے انچارج جنرل ایلن کا کہنا تھا کہ دولت اسلامی کے شدت پسندوں کے خلاف زمین آپریشن کا آغاز عراق کے اندر سے ہو گا۔ اس سلسلے میں عراقی فوج کے 12 بریگیڈز کو جنگی تربیت اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔

اردن کی خبر رساں ایجنسی"پیٹرا" کے مطابق داعش کے خلاف عراقی اور اتحادی فوج کے متوقع زمینی آپریشن میں اردنی فوج بھی حصہ لے گی۔

"پیٹرا" کے مطابق امریکی جنرل جون ایلن نے عراق کے قبائل کی مسلح مدد کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ امریکا عراق میں داعش کے خلاف لڑنے والے جوانوں کو بھی تربیت دے گا۔ انہوں‌ نے کہا کہ جس طرح عراق کے صوبہ الانبار میں کچھ عرصہ قبل القاعدہ کے خلاف قبائلی جنگجوئوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح داعش کے خلاف بھی قبائل سے مدد لی جائے گی۔

ایک سوال کےجواب میں جنرل ایلن کا کہنا تھا کہ عراق داعش کے خلاف جنگ میں ہمارا اتحادی ہے، شام اتحادی نہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ میں جلد ہی مشرقی ایشیائی ممالک کےدورے پر روانہ ہوں گا تاکہ داعش کے خلاف عالمی اتحاد کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اتحاد میں شامل ممالک کی تعداد 62 تک پہنچائی جا سکے۔ انہوں‌ نے کہا کہ داعش کے خلاف ہماری حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم داعش کی مکمل شکست تک جنگ جاری رکھیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں جنرل ایلن کا کہنا تھا کہ اردن داعش کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ آئندہ کچھ عرصے میں اردن کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔ اردن بیرون ملک سے جنگجوئوں کے شام اور عراق میں داخلے کی روک تھام میں بھی معاونت کرے گا۔ جنرل ایلن نے کہا کہ کچھ لوگ داعش کے زیر قبضہ علاقے کو "ریاست" قرار دیتے ہیں۔ داعش کے وابستگان نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی ان کے زیر قبضہ علاقوں کو ریاست قرار دیا جا سکتا ہے۔