.

یواے ای طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

لڑاکا طیارے فضائی مشن کے بعد بحفاظت اردن کے ہوائی اڈے پراُترگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے لڑاکا طیاروں نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق اور شام (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور وہ اس مشن کے بعد بحفاظت واپس اردن پہنچ گئے ہیں۔

یواے ای نے اپنے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن ہفتے کے روز اردن بھیجا تھا۔یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''لڑاکا طیاروں کا یہ حملہ اردن کے ساتھ ہر سطح پر تعاون اور غیر متزلزل یک جہتی کا آئینہ دار ہے''۔

یواے ای نے یرغمال پائیلٹ معاذالکساسبہ کے داعش کے ہاتھوں اندوہناک قتل کے بعد اظہار یک جہتی کے طور پر اپنے لڑاکا طیارے اردن بھیجے ہیں اور اس نے مغربی میڈیا کی ان اطلاعات کی بھی نفی کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یو اے ای نے اردنی پائیلٹ کے قتل کے بعد داعش کے خلاف حملے روک دیے ہیں۔

وام کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ ''یو اے ای نے امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف مہم میں اردنی فوج کی حمایت کے لیے اپنے طیارے بھیجے ہیں۔اس سفاک دہشت گرد تنظیم نے اپنے جارحانہ جرائم کے ذریعے تمام مذہبی اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے اور دنیا کو اپنا بدنما چہرہ دکھا دیا ہے''۔

واضح رہے کہ اردن اور یو اے ای ان پانچ خلیجی عرب ممالک میں شامل ہیں جو شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف امریکا کی قیادت میں فضائی مہم میں شریک ہیں۔ دوسرے تین ممالک سعودی عرب ،بحرین اور قطر ہیں اور ان کے جنگی طیارے ستمبر2014ء سے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔