.

جوہری پلانٹ کے لیے روس نے مصر کا انتخاب کیوں‌ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتن اور ان کے مصری ہم منصب فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی کے درمیان قاہرہ میں طویل مذاکرات بعد جو اہم فیصلے کیے گئے ان میں "الضبعہ" کے مقام پر ماسکو کو ایک جوہری پلانٹ لگانے کی اجازت دینا بھی شامل تھا۔ اس معاہدے پر علاقائی اور عالمی سطح ‌پر سیاسی اور اقتصادی ماہرین کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

مصر میں روس کا جوہری پلانٹ لگانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آخر وہ کیا اسباب و محرکات ہیں جن کی بناء پر ماسکو کو سات سمندر پار جوہری پلانٹ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیا یہ روس کی ضرورت ہے یا مصر کی؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ ‌نے مابرین کی آراء کی روشنی میں اپنی ایک رپورٹ میں ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا حصول ہر ملک کی خواہش ہی نہیں بلکہ ضرورت بھی ہے اور مصر کو بھی اس ضرورت سے متثنیٰ قرار نہیں ‌دیا جاسکتا ہے۔ توانائی کی قلت کے شکار مصر کے لیے روس یا کسی بھی دوسرے ملک کا جوہری پلانٹ نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ‌ہو گا۔ جوہری پلانٹ سے تیار ہونے والی بجلی نہ صرف مصر کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں‌ مدد دے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ‌روس اور مصر کے درمیان دوستانہ مزید مستحکم ہوں‌ گے۔

تاہم روس اور مصر کے درمیان جوہری معاہدے کی اس ڈیل کو عالمی سطح پر ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مصر کا روس جسیے ملک کو اپنی سرزمین پر جوہری پلانٹ لگانے کی اجازت دینا خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع کرانے کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ اس پلانٹ کے بعد روس کے ساتھ ساتھ مصر بھی بعض بڑی عالمی طاقتوں کے مد مقابل آ سکتا ہے۔

مصر کا جوہری پروگرام

مصری سائنس دان اور توانائی بورڈ کے سابق رکن ڈاکٹر مدحت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر کا ایٹمی پروگرام سنہ 1960ء کے اوائل میں شروع ہوا۔ آغاز کار ہی سے مصر کے جوہری پروگرام کو روس کا تعاون حاصل رہا۔ چنانچہ سنہ 1961ء کو مصر میں پہلا ایٹمی پلانٹ ہی روس نے لگایا تھا۔ اس کے بعد جوہری سرگرمیوں میں مزید توسیع جاری رہی اور مصر کا شمار ان ممالک میں ‌ہونے لگا جو پرامن جوہری توانائی کے حصول کی کوشش کر رہے تھے۔ بعد ازاں مصر کے سابق صدر انور سادات اور سوویت یونین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے مصر نے ماسکو سے جوہری تعاون لینے سے انکار کر دیا اور اس باب میں ‌مصر کی توجہ مغرب کی طرف مبذول ہو گئی۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ روس، مصر اختلافات کی گرد بیٹھتی گئی اور دونوں ‌ملکوں ‌نے جوہری شعبے میں باہمی تعاون کا باب پھر سے کھول دیا۔

ایک سوال کے جواب میں ‌ڈاکٹر مدحت نے کہا کہ "مصر میں روس کی جوہری سرگرمیوں کی مغربی ممالک بالخصوص امریکا نے پوری شدو مد کے ساتھ مخالفت کی۔ حتٰی کہ ماسکو سے تعاون حاصل کرنے کی پاداش میں ‌امریکا نے مصر پر پابندیاں عاید کرنے کی بھی دھمکی دی۔"

اس سلسلے میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی نے بھی مغرب ہی کا ساتھ دیا اور انہوں‌ ںے النصر شہر میں قائم جوہری پلانٹ کو خطرناک قرار دیا۔ یوں مغربی طاقتوں نے عالمی توانائی ایجنسی پر مصر کا جوہری پروگرام بند کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مغرب نے الزام عاید کیا کہ مصر کے ارادے خطرناک اور اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے نہیں ‌ہے۔

مصری تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ مغربی دعوئوں کے برعکس مصر کا جوہری پروگرام ہمیشہ پرامن مقاصد ہی کے لیے رہا ہے۔ سابق معزول صدر حسنی مبارک کے دور میں ‌بھی جوہری پلانٹ میں سمندری پانی کو تجزیے سے گذرا گیا جس کے بعد ساحلی علاقے"الضبعہ" کو جوہری مقاصد کے لیے 'مناسب مقام' قرار دیا گیا۔ ماہرین ارضیات نے بھی الضبعہ کا جائزہ لیا اور اس کے بارے میں ‌رپورٹ پیش کی یہ جگہ زلزلے کے خطرات سے بھی محفوظ ہے اور آبادی سے بھی 60 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس لیے یہ کسی قسم کے ماحولیاتی خطرے کا بھی موجب نہیں‌ بنے گا۔

البتہ مصر کی بعض‌ کاروباری شخصیات نے الضبعہ میں پلانٹ لگانے کی اس لیے مخالفت کی کہ یہ ایک سیاحتی مقام ہے اور وہاں ‌پر جوہری پلانٹ لگائے جانے کے نتیجے میں‌ سیاحت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

جوہری پورگرام کا احیاء

ڈاکٹر مدحت نے مزید کہا کہ ماضی کے کسی صدر مملکت کی نبست موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے زیادہ سنجیدہ مساعی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں ‌ںے روس کی مدد سے الضبعہ میں ایٹمی ری ایکٹر پرکام شروع کرکے نہ صرف تعطل کے شکار جوہری پروگرام کا احیاء کیا ہے بلکہ ملک کو درپیش توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے بھی اہم قدم اٹھایا ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ الضبعہ پلانٹ سے پہلے مرحلے میں پیدا ہونے والی بجلی ملک میں توانائی کی 75 فیصد ضروریات پوری کرنے کے لیے کفایت کرے گی۔ اگلے مرحلے میں یہ پلانٹ 20 ہزار میگاواٹ بجلی تیار کرے گا، جسے پڑوسی ملکوں‌ کو فروخت کر کے بھاری زر مبادلہ کمایا جا سکے گا۔

مصری سائنس دان کا کہنا ہے کہ مصر کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے میں ‌کوئی شک نہیں۔ قاہرہ حکومت نے ماضی میں‌بھی ہمیشہ یہ ثابت کیا اس کا جوہری پروگرام کسی کے خلاف نہیں‌ بلکہ صرف توانائی کے حصول کا ذریعہ ہے۔

نیز مصر کی سیاسی قیادت کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کے دور میں تیار کردہ جوہری پرگرام کے انجام سے دوچار نہیں کرنا چاہتے ہیں جسے اسرائیل نے تباہ کر دیا تھا۔ ڈاکٹر مدحت نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے جوہری پروگرام کو فضائی حملے میں تباہ نہیں ‌کیا گیا بلکہ اسے پانی کے کولروں میں بم رکھ کر تباہ کیا گیا تھا۔

انہوں‌ نے کہا کہ مصر سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کون کون سے راستے اختیار کرتا ہے۔ ہر ملک اور اس کی حکومت اپنے عوام کی بہتری کے لیے بہتر فیصلے ہی کرتی ہے۔ روس کے تعاون سے الضبعہ ایٹمی پلانٹ کو چالو کرنا مصر کی توانائی کی بنیادی ضرورت ہے جس سے 10 سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی، جس سے نہ صرف ملک کی اپنی توانائی کی ضروریات پوری ہوں‌ گی بلکہ بجلی فروخت بھی کی جا سکے گی۔

جوہری تعاون کے لیے روس ہی کیوں؟

ڈاکٹرمدحت سے پوچھا گیا کہ مصری حکومت نے کسی دوسرے ملک کے بجائے روس کو جوہری پلانٹ لگانے کی اجازت ہی کیوں‌ دی؟ اگر مصر کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری پلانٹ لگانا ہی تھا تو روس کے سوا کسی دوسرے ملک کو بھی یہ کام سونپا جا سکتا تھا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر مدحت کا کہنا تھا کہ روس اور مصر دو درینہ دوست ملک ہیں۔ جوہری سرگرمیوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کی ایک طویل تاریخ ‌ہے۔ سنہ 1960ء میں ‌روس ہی نے سب سے پہلا ایٹمی پلانٹ لگایا تھا۔ نیز مصر کسی دوسرے ملک سے جوہری مواد حاصل کرنے میں تامل سے کام لیتا رہا ہے لیکن اسے روس کے ہاں تیار ہونے والے جوہری آلات اور مواد پر اعتماد ہے کیونکہ وہ 100 فیصد خالص ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ روس کا انتخاب اس لیے بھی کیا گیا کیونکہ روس اس وقت تیزی کے ساتھ ترقی کرتی ایک بڑی عالمی قوت ہے۔ خطے اور عالمی معاملات کے حل میں روس کا کلیدی کردار ہے۔ روس نے مصر میں جوہری پروگرام شروع کرنے کے لیے مصر سے لمبی چوڑی شرائط بھی نہیں رکھیں لیکن بعض ‌دوسرے ممالک اس سلسلے میں اپنی مرضی کی شرائط بھی عاید کرتے ہیں۔