.

داعش کے خلاف غیر ملکی زمینی فوج کی ضرورت نہیں: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوئوں سے مقابلے کے لئے بغداد نے غیر ملکی افواج کے زمینی دستوں سے مدد طلب نہیں کی ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر براک اوباما کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ داعش کے خلاف فوجی آپریشنز کئے جائیں۔

امریکی صدر نے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں زمینی دستے بھیجنے کا اختیار فراہم کرنے کے لئے کانگریس پر زور ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکی سپیشل فورسز کو داعش کے رہنمائوں کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجنے سے نہیں ڈریں گے۔

سڈنی میں موجود عراقی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زمینی افواج ان کی حکومت کے منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔

آسٹریلوی ہم منصب جولی بشپ سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا "ہم نے کبھی زمینی افواج کے تعاون کی بات نہیں کی ہے۔"

ابراہیم الجعفری نے کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے بین الاقوامی تعاون کے لئے ہدایات جاری کی ہوئی ہیں۔ ہماری ہدایات میں عراقی فوجیوں کو فضائی معاونت، ٹریننگ اور انٹیلی جنس فراہم کرنا شامل تھا۔

عراقی وزیر خارجہ کے مطابق "اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو دئیے جانے والے پیغام میں عراق نے غیر ملکی افواج کے زمینی دستوں سے مدد کی درخواست نہیں کی تھی۔" مگر ان کا مزید کہنا تھا "ہم ایک بڑی جنگ کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔"

عراقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کی فوج داعش کے خلاف پیش قدمی کر رہی ہے اور اس کے پاس دستوں کی کمی نہیں ہے۔

جعفری کے مطابق "اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عراقی مسلح افواج کو انٹیلی جنس معلومات سمیت فضائی معاونت کی ضرورت ہے۔ عراق میں کسی بھی ملک کے فوجی دستے موجود نہیں ہیں۔"

آسٹریلوی وزیر خارجہ جولی بشت نے بتایا کہ ان کا ملک عراق کو فضائی معاونت، ٹریننگ، مشاورت اور معلومات کی فراہمی تک محدود رہے گا۔ ان کا کہنا تھا "ہم نے زمینی دستوں کو اتارنے کا فیصلہ نہیں کیا۔