.

داعش کا شام میں اسرائیلی جاسوس پکڑنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی عراق وشام [داعش] نے ایک اسرائیلی عرب باشندہ کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جو داعش کی صفوں میں بطور غیر ملکی جنگجو شمولیت اختیار کرنے کے بعد اسرائیلی 'موساد' کے لئے جاسوسی کر رہا تھا۔

داعش کے آن لائن میگزین 'دابق' میں شائع 19 سالہ محمد مسلم کے انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ اس نے شام میں داعش میں شمولیت اس لئے اختیار کی تاکہ وہ اسرائیلی حکام کو تنظیم کے اسلحہ خانوں، ٹھکانوں اور فلسطینی جنگجوئوں سے متعلق معلومات فراہم کر سکے۔

داعش کے کمانڈروں کو محمد مسلم پر شک گزرا تو اس کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی. داعش حکام نے مسلم کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جب وہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اپنے والد سے فون پر گفتگو کر رہا تھا۔

دابق کے مطابق مسلم کا کہنا تھا "میں داعش پر جاسوسی کے خواہشمند تمام افراد سے کہتا ہوں کہ آپ زیادہ عقلمند نہیں ہیں کہ داعش کو دھوکا دے سکیں۔ آپ کو کامیابی نہیں ملے گی۔ اس راستے سے دور رہو۔ یہودیوں اور مرتدین کی مدد کرنے سے دور رہو۔ صرف سیدھے راستے پر چلو۔"

مسلم کے والد سعید نے کہا کہ ان کے بیٹا جاسوس نہیں ہے۔ وہ تو ترکی میں بطور سیاح گیا ہوا تھا اور وہیں سے گم ہو گیا۔ اس کے بعد محمد نے گھر فون کیا اور بتایا کہ اس کو شام میں اغوا کر لیا گیا ہے اور اسے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا جائے گا۔

سعید مسلم کے مطابق وہ تاوان کی رقم بھجوانے والے تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کا بیٹا اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہو گیا تھا مگر اب اسے داعش نے گرفتار کر لیا ہے۔