.

شام: جیش الحر کا حملہ، داعش کا مقامی امیر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے مشرقی الغوطہ میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم فوج جیش الحرنے ایک کارروائی میں شدت پسند گروپ دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے مقامی کمانڈر ابو محمد تیونسی کو ہلاک کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جیش الحر کے زیر انتظام ’’الرحمان‘‘بریگیڈ نے ایک بیان میں ہلاک ہونے والے داعشی کمانڈر کی نعش کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا ہے داعش کے مشرقی الغوطہ میں تعینات امیر کو ایک جھڑپ میں ہلاک کیا گیا۔

ادھر الرحمان بریگیڈ کے میڈیا انچارج محمد ابو کمال نے انکشاف کیا ہے کہ داعشی جنگجو نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب جیش الحر کے اہلکار اس کے گھر کا محاصرہ کرکے مکان کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس نے پکڑے جانے کے خوف سے خودکشی کر لی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ابو کمال نے بتایا کہ داعشی کمانڈر ابو محمد تیونسی مشرقی الغوطہ کے ’’سقبا‘‘ شہر میں روپوش تھا اور جیش الحر اس کی تلاش میں مصروف تھی۔ جب جیش الحر کو ایک مکان میں اس کی موجودگی کا پتا چلا تو مقامی وقت کے مطابق رات کے 12 بجے مکان پر چھاپہ مارا گیا۔ داعش کمانڈر نے پکڑے جانے کے خوف سے خود کو دھماکے سے اڑایا۔ خود کش کارروائی میں وہ شدید زخمی ہوا جس کے بعد جیش الحر کے حملہ آوروں نے سر میں گولیاں مار کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ میں دولت اسلامی’’داعش‘‘ کا ظہور 2013ء کے وسط میں ہوا، جولائی 2014 کو جیش الحرنے مشرقی الغوطہ میں داعش کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں مشرقی الغوطہ میں داعش کا تقریبا صفایا ہوگیا اور اس کے درجنوں اہم جنگجو مارے گئے اور جو بچ نکلے وہ فرار ہوگئے تھے۔ ابو محمد تیونسی بھی مفروروں میں شامل تھا اور چھپتا پھرتا تھا، تاہم جیش الحر مسلسل اس کا تعاوب جاری رکھے ہوئے تھی۔

ایک سوال کے جواب میں جیش الحر کے عہدیدار ابو کمال نے بتایا کہ جیش الحر نے مشرقی الغوطہ میں اپنی کارروائیوں کا آغاز عام شہریوں کے اغواء سے کیا۔ داعش نے مشرقی الغوطہ کی المرج، عین ترما اور جوبر کالونیوں سے درجنوں شامی شہریوں کو اغوا کیا۔ داعش کے ہاں یرغمال دو شہریوں کو ایک ماہ قبل بازیاب کرایا گیا ہے۔

ابو کمال کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوئوں کی جانب سے مشرقی الغوطہ میں شامی فوج کے محاصرے سے فایدہ اٹھاتے ہوئے مقامی شہریوں کو خریدنے کی کوشش کی اور انہیں داعش میں شمولیت کے لیے اسلحہ اور رقم بھی دینے کی کوشش کی گئی۔ مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج کے محاصرے کے نتیجے میں مقامی آبادی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تھی اور داعشی کمانڈر ایک ایک لاکھ شامی لیرہ تنخواہ وصول کر رہے تھے۔