.

فرانس کو مطلوب شدت پسند خاتون کی بحفاظت شام آمد

حیاۃ بومدین کا انٹرویو داعش کے ترجمان رسالے میں شائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے زیر انتظام شائع ہونے والے ایک آن لائن جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے ماہ فرانسیسی اخبار ’’چارلی ایبڈو‘‘ کے دفتر پر حملہ کرنے والے احمدی کولیبالی نامی شخص کی بیوہ حیات بومدین بحفاظت شام پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ’’داعش‘‘ کی نگرانی میں شائع ہونے والے جریدے ’دارالسلام‘ میں فرانس کو انتہائی مطلوب شدت پسند خاتون اور اخبار ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر میں سترہ افراد کو ہلاک کرنے والے احمدی کولیبالی کی بیوہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں اس نے داعش کے زیر قبضہ شامی علاقے میں پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

داعش کے ترجمان جریدے کی جانب سے حیات بومدین کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم اتنا کہا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مرتکب فرانسیسی جریدے کے دفتر پر حملہ کرکے دو درجن افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے اور بعد ازاں فرانسیسی پولیس کے حملے میں مارے جانے والے احمدی کولیبالی کی بیوہ بحفاظت خلافت اسلامیہ [شام] میں پہنچ گئی ہے۔

انٹرویو میں حیات سے پوچھا گیا کہ آپ نے داعش کی خلافت میں قدم رکھنے کے بعد کیسا محسوس کیا؟َ تو اس کا کہنا تھا کہ مُجھے دولت اسلامیہ کے زیر کنٹرول علاقے میں داخل ہونے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ میں اب بہت خوش ہوں کیونکہ ایک ایسی جگہ ہوں جہاں اللہ کا نظام قائم ہے۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ میرا مقتول شوہر احمدی کولیبالی بھی داعش ہی کا حامی تھا اور اس نے فرانسیسی جریدے کے دفتر پر داعش ہی کے نام سے حملہ کرکے اپنی جان بھی قربان کر دی۔

یاد رہے کہ سات جنوری کو احمدی کولیبالی نے فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو کے پیرس میں قائم مرکزی دفتر حملہ کر کے سترہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس نے دفتر میں موجود دسیوں افراد کو تین روز تک یرغمال بنائے رکھا۔ تین روز کے طویل آپریشن کے بعد احمدی کو قتل کرنے کےبعد یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا۔

حملے کے دوران ہی احمدی کولیبالی کی بیوی حیات بومدین نے ملک چھوڑ دیا۔ وہ ہوائی جہاز کے ذریعے ترکی کے راستے شام پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ فرانسیسی پولیس نے اس کی تلاش کی کوشش مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہی۔ حیات بومدین کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی تربیت یافتہ جنگجو ہے۔ اس نے 2010ء میں فرانس کے ایک پہاڑی علاقے ’’کانتال‘‘ میں نشانہ بازی کی تربیت حاصل کی تھی۔

فرانسیسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حیات بومدین کی والدہ اس وقت انتقال کر گئی تھی جب ابھی یہ چھوٹی تھی۔ حیات اپنے سات بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے اور ان کا والد بھی ایک غریب شخص ہے جو اپنی اولاد کی بہتر انداز میں پرورش نہیں کر سکا۔