.

حزب اللہ حریری کے قاتل ہمارے حوالے کرے: سعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے والد سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قاتلوں کو ان کے حوالے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اور دیگر لبنانی قوتوں کے درمیان مذاکرات بھی وقت کی ضرورت ہے اور یہ مذاکرات مرحلہ وار ہونے چاہئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعد حریری نے اپنے والد کے قتل کی دسویں برسی کے حوالے سے بیروت میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب عالمی عدالت میرے والد کے ’قتل ناحق‘ کا منصفانہ فیصلہ جاری کرے گی۔

سعد حریری کا کہنا تھا کہ شام میں امن لبنان میں امن کے لیے ضروری ہے تاہم وہ کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کے بجائے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی اس وقت خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا ہے۔

سابق لبنانی وزیر اعظم نے خطے میں امن وامان کے قیام میں سعودی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ سعودی عرب اعتدال پسندی کا مرکز ہے اور پورے خطے میں اعتدال پسند سوچ کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیا کہ انہوں نے اپنے ملک کے دروازے بیرون ملک سے آنے والے جنگجوئوں کے لیے کھول دیے جس کےنتیجے میں اب لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک اور بے گھر ہوچکے ہیں۔

سعد حریری نے اردن اور تیونس کے لبنان بارے موقف کو بھی سراہا اور دولت اسلامی’’داعش‘‘ کی مذمت کی۔ یمن کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن سے خوش قسمتی کی چادر اتار لی گئی ہے اور اب زمام کار خون خرابے پر یقین رکھنے والے ایک قبائلی گروپ کے ہاتھ میں ہے۔