.

خلیج، اردن سیکیورٹی کے لئے عرب فورس کی تشکیل پر مشاورت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند دولت اسلامیہ 'داعش' کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ اور اس کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مصر کی میزبانی میں عرب ملکوں کے رہنما متحدہ عرب فورس کی تشکیل کے لئے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ خلیج اور اردن کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس امر کا انکشاف مصری وزارت خارجہ کے ترجمان اور کیریئر سفارتکار بدر عبدالعاطی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عبدالعاطی نے مصری وزیر خارجہ سامح شکری کے حوالے سے بتایا کہ داعش کے مقابلے کے لئے متحدہ عرب یا سریع الحرکت فورس کی تشکیل کے لئے عرب قیادت کے درمیان صلاح مشورے جاری ہیں۔ یہ فورس خلیج یا اردن میں تشکیل دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی میزبانی میں عرب قیادت کا نمائندہ اجلاس اگلے ماہ مارچ میں اس تجویز پر تبادلہ خیال کے بعد فورس تشکیل دینے منظوری دے سکتا ہے۔

عبدالعاطی نے بتایا کہ مصر اور داعش کی براہ راست دہشت گردی کے شکار ملکوں کے درمیان مسلسل رابطہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عرب برادری کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ جو انہیں حوصلہ دلاتے ہیں کہ مصر، خلیج اور عرب خطے میں امن اور سلامتی کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

عبدالعاطی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مصری وزارت خارجہ اس انٹرنیشنل ورکنگ گروپ میں شامل ہے جو داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔ اس ورکنگ گروپ میں رکن ملکوں کے ماہرین ابلاغیات اور متعلقہ حکومتوں کے ترجمان دفتر خارجہ شامل ہیں جو ایسا موثر میڈیا پیغام تشکیل دینے کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ جسے روبعمل لا کر نوجوانوں کو انتہا پسند سوچ کا شکار بننے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصری وزارت خارجہ جامعہ الازہر الشریف اور اس کے دار الافتاء کے ساتھ پوری طرح رابطے میں ہے تاکہ اتحادی ملکوں میں میڈیا کے ذریعے ترویج دین کا ایسا پیغام تیار کر کے دیا جا سکے جو دین متین کی برداشت اور اعتدال پسندی کی روایات کا مظہر ہو۔

عبدالعاطی کا کہنا تھا کہ ورکنگ گروپ میں شامل متعدد ملکوں نے انتہا پسندی کے لئے ایسے موثر مواد کو مختلف زبانوں بالخصوص انگریزی میں تیار کرنے پر زور دیا تاکہ مشہور اور قابل بھروسہ دینی اداروں کی تحقیق کے ذریعے پڑھے لکھے نوجوانوں کو مخاطب کیا جا سکے۔

مصری ترجمان کے مطابق ورکنگ گروپ مغربی ملکوں کے نمائندوں کی رائے ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کے تبادلے کے متعدد فورمز کی فلٹرز کے ذریعے نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ تکفیری سوچ کے حامل افراد کھلے عام اپنے نظریات کا پرچار نہ کر سکیں۔ ترجمان کے مطابق مصر ان ارکان کی سوچ کا احترام کرتا ہے۔