.

مصر:لیبیا میں فوجی مداخلت کے لیے یو این مینڈیٹ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں فوجی مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔

مصری صدر نے فرانسیسی ریڈیو یورپ 1 سے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے،لیبی عوام کو صورت حال کے پیش نظر اس بات سے اتفاق کرنا چاہیے کہ ہم سکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے اقدام کریں''۔عبدالفتاح السیسی قبل ازیں بھی لیبیا میں جاری بد امنی پر قابو پانے اور جنگجو گروپوں کے استیصال کے لیے عالمی مداخلت کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

یورپی یونین نے سوموار کو کہا تھا کہ لیبیا میں فوجی مداخلت کے لیے اس کا کوئی کردار نظر نہیں آتا ہے لیکن وہ مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر مشترکہ اقدام پر غور کے لیے تیار ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے ایک بیان میں کہا کہ ''لیبیا میں آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں،وہ دُہرے خطرے کا غماز ہے۔یہ ایک جانب ملک کے لیے خطرہ ہے جس کے حصے بُخرے ہورہے ہیں اور دوسری جانب یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں داعش دراندازی کرکے اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہی ہے''۔

مصر نے سوموار کو لیبیا کے شہر درنہ میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔اس سے چندے قبل داعش کی لیبی شاخ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس کے نقاب پوش جنگجوؤں کو مصر کے اکیس قبطی عیسائیوں کے سرقلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے حوالے سے کہا ہے کہ مصر کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔انھوں نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''گذشتہ روز منظر عام پر آنے والی ویڈیو کے بعد مناسب اقدام ناگزیر تھا۔فضائی حملے مصر کے اپنے دفاع کے حق کا حصہ ہیں تاکہ اس کے تحت ہم اپنے بچوں کا تحفظ کرسکیں۔اس معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے''۔

سامح شکری نے انٹرویو میں کہا کہ ''مصر کا اس کی علاقائی اہمیت ،فوجی صلاحیت اور مذہبی اداروں کے پیش نظر ہمیشہ سے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں داعش ایسے گروپوں کی موجودگی سے اس کا استحکام خطرے سے دوچار رہے گا۔

واضح رہے کہ مصر امریکا کی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف مہم کا حصہ نہیں ہے لیکن اس نے ماضی میں متعدد مرتبہ اس اتحاد کی مہم کو لیبیا تک وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اب مصری صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لیبیا میں جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے قرارداد کی منظوری پر زوردیا ہے۔