.

داعش 'خلیفہ' کی نادر تصویر امریکی چینل پر نشر

تصویر سے انتہا پسند دہشت گرد رہنما کی زندگی کے چند گوشے وا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیوز چینل “CBS” نے داعش کے دہشت گرد رہنما ابوبکر البغدادی کی نئی تصویر نشر کی ہے۔ قیدیوں کے نارنجی لباس میں البغدادی کی یہ تصویر سنہ 2004ء کے اوائل میں اس وقت لی گئی تھی جب وہ عراق کے بوکا کیمپ میں زیر حراست تھے۔

امریکی نیوز چینل کی ماضی میں پیش کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق بوکا جیل میں البغدادی کے ہمراہ داعش کے 12 دوسرے رہنما بھی قید تھے۔ بوکا جیل عراق کی سب سے زیادہ مشکل جیل ہے۔ رپورٹ کے مطابق البغدادی نے 10 ماہ بوکا جیل میں قید رہے، دوران حراست ان کے بارہ ساتھی بعد ازاں انتہا پسند داعش کے مرکزی رہنما بنے۔

'بزنس ان سائیڈر' نامی ویب سائٹ نے بغدادی کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ انہیں اپنے دیگر مشتبہ مسلح ساتھیوں سمیت فلوجہ میں ایک اجلاس کے دوران گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہیں چند ہی دنوں میں بوکا جیل منتقل کر دیا گیا۔ ان کی گرفتاری کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بغدادی امریکا کی فوجی کارروائی کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ انتہا پسند تنظیموں کے ماہر ہاشم الھاشمی نے اپنی کتاب ISIS: Inside The Army of Terror میں انکشاف کیا کہ ان دنوں بغدادی یونیورسٹی میں ملازم تھا اور اسے گرفتار نہیں کیا جانا تھا بلکہ گرفتاری کا اصل ہدف نعمان نصایف نامی دہشت گرد تھا۔

ہاشمی کے مطابق جیل میں البغدادی کو جاری شناختی کارڈ اور ریکارڈ میں اسے دہشت گرد یا مسلح شخص کے بجائے عام شہری بتایا گیا۔

یاد رہے کہ البغدادی صرف اس وقت منظر عام پر آئے جب انہوں نے خود کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا اور گذشتہ برس جون میں موصل کی مسجد میں خطبہ دیا۔ نیز ان کا دوسرا عوامی رابطہ گذشتہ برس نومبر میں جاری کردہ آڈیو پیغام تھا جس میں انہوں نے اپنے پیروکاروں کو 'چہار سو جہاد کے آتش فشاں کا دھماکا کرنے' کی ہدایت کی۔