.

شامی فوج نے دس بچوں سمیت 48 افراد کو قتل کردیا

باغیوں کے خلاف اسدی فوج کی جارحانہ کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کام کرنے والے ایک مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے ایک دیہات میں پانچ مبینہ باغیوں کے خاندانوں کو قتل کرنے کی کارروائی میں دس بچوں سمیت کم از کم 48 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے ایک گائوں ریتیان میں شامی فوج نے باغیوں کی سپلائی لائن کو کاٹنے کے لئے شروع کئے جانے آُپریشن کے تحت حملہ کیا اور گائوں کے شہریوں کا قتل عام کیا۔

مانیٹرنگ گروپ کے مطابق دیہاتیوں نے شامی فوج کی جانب سے مارے جانے والے افراد کی لاشیں اس وقت دیکھیں جب بشار الاسد کی افواج نے علاقے سے واپسی اختیار کی۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا "شامی فوجیوں کے ہمراہ مخبر بھی موجود تھے جنہوں نے باغیوں کے گھروں کی نشاندہی کی۔ گائوں میں سوائے ایک گھر کے کسی جگہ بھی شامی فوج کو مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک باغی نے فوجیوں پر فائرنگ کردی تھی مگر اسے بھی اس کے خاندان سمیت ہلاک کردیا گیا۔"

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن مامون ابو عمر کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان میں سے کئی افراد کی لاشیں مسخ کردی گئی تھیں۔

ریتیان پر شامی فوج کا مختصر قبضہ حلب کے مشرق میں موجود باغیوں کو گھیرے میں لینے اور شمال میں محاصرے کے شکار دو شیعہ آبادی والے دیہات کا محاصرہ توڑنے کے ناکام مشن کا حصہ تھا۔

جمعہ تک ایک کے علاوہ باقی تمام دیہات کو باغیوں نے دوبارہ قبضے میں لے لیا تھا۔ ان باغیوں میں القاعدہ نواز گروپ النصرہ فرنٹ بھی شامل ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق اس بھاری معرکے کے دوران شامی فوج کے 129 افراد جبکہ 116 باغیوں کی جانیں ضائع ہوگئیں جن میں النصرہ کا ایک کمانڈر بھی شامل تھا۔