.

شام کو اسد، داعش سے نجات کے لیے امریکی عزم

ایک سال میں شام کے محاذ جنگ پر نمایاں تبدیلی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ترکی کی مدد سے شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج کی عسکری تربیت کا مقصد صرف دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا نہیں بلکہ واشنگٹن ایک سال کے اندر اندر شام کو داعش اور بشار الاسد دونوں سے نجات دلانا چاہتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ترکی کی ایک فوجی چھائونی کو شامی اپوزیشن فوج کی عسکری تریبت کے لیے استعمال کرنے کے معاہدے کا مقصد شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری تحریک کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ صدر براک اوباما نے شام کی اپوزیشن فوج کی عسکری تربیت کے لیے کانگریس سے اسی مقصد کے لیے منظوری حاصل کی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور ترکی دونوں مل کر شام میں داعش اور اسد رجیم کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکا کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ترکی کونہ صرف اپنے مشن شامل کیا ہے بلکہ شامی اپوزیشن فورسز کی تربیت کے لیے ترکی کی سرزمین کا انتخاب کیا گیا ہے۔

’بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا‘

جب سے امریکا کی زیر نگرانی شامی باغیوں کو عسکری تربیت دیے جانے کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہوئی ہیں بعض لوگ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ شامی اپوزیشن کی تربیت کا مقصد صرف داعش کے خلاف عالمی جنگ کو موثر بنانا اور صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت سے صرف نظر کرنا ہے، لیکن امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی متعدد پریس کانفرنسوں میں اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے ’’العربیہ ڈٹ نیٹ‘‘ سے بات کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ امریکا اب بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا پر زور حامی نہیں رہا رہا ہے۔ پینٹاگان کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن کو تربیت دینے کا مقصد صرف داعش کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا نہیں بلکہ صدر بشار الاسد کے خلاف جاری تحریک کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ’’مجھے اس حقیقت کو بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔ بشار الاسد اقتدار میں رہنے کی آئینی حیثیت کھو چکے ہیں۔ انہیں ہر صورت میں اقتدار چھوڑنا ہو گا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک صدر اسد اقتدار میں ہیں شام میں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ صدر بشار الاسد اپنی ہی عوام کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بحران کا سیاسی اور سفارتی حل قبول نہ کرکے انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔

بشار الاسد کی فتوحات عارضی

شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی کے خلاف امریکا کی سر پرستی میں جاری فوجی آپریشن کو علاقائی سطح پر صدر بشار الاسد کے بارے میں امریکی موقف میں تبدیلی سمجھا جانے لگا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صدر بشار الاسد کے بارے میں امریکی تذہب دراصل واشنگٹن کی ترجیجات کی نشاندہی کرتا ہے۔

امریکی سینٹ کام کے ترجمان کی جمعرات کے روز کی پریس کانفرنس میں واضح اشارہ موجود ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں کامیابی بشار الاسد کو نہ صرف کمزور کرے گی بلکہ انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے پر منتج ہو گی۔ سینٹرل کمان کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے خلاف عالمی اتحادیوں کی کارروائی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش اور صدر بشارالاسد کے بارے میں پینٹاگان کی حکمت عملی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بشار الاسد کے خلاف عوامی انقلاب کی تحریک کو کامیاب بنانا بھی امریکی ترجیحات میں شامل ہے مگر اولین ترجیح داعش کو عراق کی سرزمین میں شکست سے دوچار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شمالی عراق کے شہر موصل سے داعش کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے اور اس جنگ میں امریکا کے تمام عرب اتحادی بھی پہلے عراق سے داعش کو شکست دینے کی حکمت عملی کے حامی ہیں۔ موصل سے داعش کو شکست دینے کے بعد اگلے مرحلے میں شام میں آپریشن کو وسعت دی جائے گی۔

تاہم یہ تاثر بھی درست ہے کہ امریکی حکومت نے شام کی اپوزیشن کی نمائندہ اعتدال پسند فورسز کی تربیت اور اسے اسلحہ کی فراہمی میں بہت تاخیر کر دی ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں صدر بشار الاسد کی فوج نے اپوزیشن کے زیر کنٹرول کئی شہروں میں دوبارہ اپنا قبضہ مضبوط کیا لیکن اسدی فوج کی یہ فتوحات عارضی اور محدود مدت کے لیے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے شامی اپوزیشن کی فوج کو مسلح کرنے کا جو پلان ترتیب دیا ہے، اس کے تحت اگلے ایک سال سے کم عرصے میں بشار الاسد مخالف فوج کو میدان میں اتارنا اور انہیں بہتر اسلحہ فراہم کرکے اپنی تحریک کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانے میں مدد دینا ہے۔ امریکا شامی اپوزیشن کی مدد خلوص نیت کے ساتھ کر رہا ہے۔ شام کے جن علاقوں سے داعش کو شکست دی جائے گی وہاں پر اسدی فوج کو پیر جمانے کا موقع نہیں ملے گا بلکہ اپوزیشن کی اعتدال پسند قوتیں کنٹرول کریں گے۔

چونکہ شام اور عراق میں داعش کو شکست کا سامنا ہے اور اس کے ہزاروں جنگجوئوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ترکی کی سرحد سے داعش کی سپلائی لائن منقطع ہونے کے بعد داعش زیادہ دیر تک اپنے حواس برقرار نہیں رکھ سکے گی اور شام کے شہر بھی ایک ایک کر کے داعش کے قبضے سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے۔