.

لیبیا: لبراق ائیرپورٹ پر راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقی لیبیا کے شہر لبراق کے مضافات میں موجود جنرل حفتر کے زیرانتظام انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر راکٹ حملہ کیا گیا جس میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

جنرل حفتر کی وفادار فوج اس ائیرپورٹ سے اسلام پسند جنگجوئوں کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے۔ نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے فائر کردہ چار راکٹ ائیرپورٹ کی حدود سے باہر گرے جس کی وجہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔

لیبی جنرل کی جانب سے ان جنگجوئوں کے خلاف کارروائیاں 21 قبطی مسیحیوں کے قتل کے بعد کی گئی تھی۔ داعش سے تعلق رکھنے والے مقامی جنگجوئوں نے مصر کے قبطی مصریوں کو اغوا کرنے کے بعد اپنے روایتی انداز میں ان کے سر قلم کردیئے تھے۔

اس ائیرپورٹ کو حالیہ مہینوں کے دوران اس سے پہلے بھی کئی دفعہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ لبراق شہر اسلام پسند تنظیموں کے گڑھ درنا سے کچھ 65 کلومیٹر دور ہے۔ درنا کو پیر کے روز مصری اور لیبی جنگی جہازوں نے نشانہ بنایا تھا۔

لیبی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ داعش نے درنا پر حملے کے جواب میں لبراق سے تقریبا 30 کلومیٹر دور واقع القبہ شہر پر خوکش حملے کئے جن کے نتیجے میں 44 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوگئے تھے۔

لبراق شہر کا ائیرپورٹ لیبیا میں آپریشنل چند ائیرپورٹس میں سے ایک ہے۔ اس سے پہلے طرابلس اور بن غازی کے ائیرپورٹ شدید جھڑپوں کے باعث بند کردئیے گئے ہیں۔

لیبیا میں سنہ 2011ء سے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد شدید بحران کا سامنا ہے۔ اس میں دو حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں جن میں سے ایک بین الاقوامی برادری کی طرف سے تسلیم شدہ جبکہ دوسرے کا تعلق اسلام پسند تنظیموں سے ہے۔ طرابلس پر اسلام پسند ملیشیائوں کے قبضے کے بعد سے تسلیم شدہ حکومت نے البیضا میں پناہ لے رکھی ہے۔