.

مبارک دور کے ٹائیکون احمد عزانتخاب لڑنے کے نااہل قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سپریم الیکٹورل کمیشن نے اسٹیل ٹائیکون احمد عز کے آیندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید کردی ہے۔

احمد عز کو 2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد بدعنوانیوں اور انتخابی دھاندلیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے ہیں۔

مصری روزنامے الاہرام کی رپورٹ کے مطابق احمد عز سپریم الیکٹورل کمیشن کو درکار ضروری دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد انھیں انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ان کے وکیل محمد حمودا کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف انتظامی عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

سابق صدر حسنی مبارک کے دور کی اس اہم کاروباری شخصیت نے اسی ماہ قاہرہ کے شمال میں واقع علاقے منوفیا سے پارلیمانی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔وہ مصر کی سب سے بڑی اسٹیل فرم عز اسٹیل کے سابق مالک ہیں۔انھیں فروری 2011ء میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کی اقتدار سے رخصتی کے تھوڑی دیر کے بعد ہی بدعنوانیوں کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان پر ایک بڑا یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے سنہ 2010ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی (این ڈی پی) کو جتوانے کے لیے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرائی تھی۔ان انتخابات میں سابق صدر کی جماعت کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہوگئی تھی لیکن انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ان کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

مصر میں آیندہ پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کا مارچ سے آغاز ہورہا ہے۔ان انتخابات کے پہلے مرحلے میں 22 اور 23 مارچ کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 26 اور 27 اپریل کو ہوگی۔