.

’المالکی نے خامنہ ای کی ہدایت پر عہدہ چھوڑا تھا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری امور کے مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑا تھا۔

جنرل یحییٰ رحیم کے بقول آیت اللہ خامنہ ای نے المالکی سے کہا تھا کہ وہ عراقی عوام،اہل تشیع کے تحفظ اور ان کے وسیع تر مفاد میں وزارت عظمیٰ کی قربانی دے دیں جس کے بعد انہوں ںے حکومت چھوڑ دی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں جنرل رحیم صفوی کا کہنا تھا کہ نوری المالکی نے پارلیمنٹ میں 95 نشستیں حاصل کی تھیں۔ وہ وزارت عظمیٰ کے زیادہ حقدار تھے۔ جب انہوں نے تیسری بار وزارتِ عُظمیٰ کا عہدہ سنھبالنے کا فیصلہ کیا تو آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں پیغام دیا بھیجا کہ وہ اہل تشیع کے وسیع تر مفاد میں وزارت عظمیٰ کے عہدہ چھوڑ دیں چاہے وہ اس کے حقدار ہی کیوں نہ ہوں۔

خیال رہے کہ سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کے پانچ ماہ بعد ایران کے دورے پر تہران آئے تھے جہاں انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر المالکی نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تحسین کی۔ اس موقع پر سپریم لیڈر نے سابق وزیر اعظم سے کہا تھا کہ وہ نئے وزیر اعظم حیدر العبادی کی ملک میں سیاسی استحکام کے حوالے سے مدد کریں۔

’ہماری جنگ مشترک ہے‘

درایں اثناء عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی نے حال ہی میں عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے ایرانی جنرل حمید تقوی کی یاد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام اور اہل ایران کے دکھ، درد مشترک ہیں۔ ہماری جنگ ایک اور ہمارا دشمن مشترک ہے۔

انہوں نے تقریب کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایرانی انقلاب کی فتح کا جشن مناتے ہیں لیکن ہماری مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ ہم ایک بحران سے نہیں نکل پاتے کہ دوسرے میں پھنس جاتے ہیں۔ نئی نئی مشکلات ہماری راہیں روکتی ہیں۔ کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی جی سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ ایک ہے۔ عراق، ایران۔ شام، بحرین اور لبنان ایک ہی سلسلے میں کڑیاں ہیں۔ فروعی اختلافات اپنی جگہ مگر دشمن نے ہمیں متحد کر دیا ہے۔

انہوں نے عراق میں سرگرم شیعہ عسکری ملیشیا پر اغوا، قتل اور جبری بے دخلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بدنام کرنے کے لیے اس طرح کے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بالخصوص ہیومن رائٹس واچ داعش کے قبضے سے خالی ہونے والے صوبہ دیالا اور دیگر علاقوں میں شیعہ عسکری گروپوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان گروپوں کے سر پرست اعلیٰ نوری المالکی کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں کسی قسم کی انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہوئی ہے۔