.

زیر حراست حزب اللہ کمانڈر کا حلب میں قتل عام کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کے جنگجوئوں نے شامی فوجیوں کے ساتھ مل کر حلب شہر میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کے ایک عسکری گروپ 'الشامیہ فرنٹ' کی قید میں موجود حزب اللہ کمانڈر حسن علی فواز نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اسدی فوجیوں کے ساتھ مل کر حلب کے رتیان قصبے میں 48 عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

کمانڈر حسن علی فواز نے کہا کہ رتیان قصبے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے شامی فوج آگے تھی اور حزب اللہ کے جنگجو اس کے پیچھے تھے۔ دونوں نے قصبے میں گھس کر پچاس کے قریب افراد کو گولیاں مار کرقتل کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ 20 فروری کو شامی انسانی حقوق کے کارکنوں نے حلب کے قصبہ رتیان میں شامی فوج کے ہاتھوں درجنوں بے گناہ شہریوں کے قتل کیے جانے کی تصدیق کی اطلاع دی تھی۔ انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ بعض افراد کو ایک مہلک آتش گیر مادے کے ذریعے زندہ جلایا گیا ہے۔

بعد ازاں شمالی حلب میں 'الشامیہ فرنٹ' نے ایک کارروائی میں حزب اللہ کے جنگجوئوں سمیت 45 شامی فوجی گرفتار کر لیے تھے۔ ان کی گرفتاریاں اس وقت عمل میں لائی گئی تھیں جب وہ حندرات اور سیفات کے محاذوں کی طرف بڑھتے ہوئے نبل اور الزھراء قصبوں میں داخل ہونا چاہتے تھے۔

حسن علی فواز نے بتایا کہ حزب اللہ کے ایک دوسرے کمانڈر کمیل کی قیادت میں 325 جنگجوئوں پر مشتمل ایک گروپ نبل اور الزھراء قصبے سے نکل کر شامی فوج کی مدد کے لیے اگلے محاذوں پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

اس نے بتایا کہ جب ہم ان دونوں قصبوں کو عبور کر کے آگے بڑھنے لگے تو شامی اپوزیشن کے ایک گروپ بے ہمارا راستہ روک لیا۔ ہم ایک عمارت میں محصور ہو گئے۔ اس دوران دو حزب اللہ کمانڈر رامی علی اور انس ہمیں چھوڑ کر شامی فوج کے ہمرار فرار ہو گئے اور ہمیں پکڑ لیا گیا۔

حزب اللہ کمانڈر کا کہنا ہے کہ شمالی حلب کے نبل اور الزھراء قصبوں کا محاصرہ توڑنے کے لیے ایک سو حزب اللہ جنگجوئوں نے حصہ لیا تھا تاہم الشامیہ فرنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جن جنگجوئوں کو حراست میں لیا ہے ان کے پاس ایران کے قومی شناختی کارڈز ہیں۔