.

شام: کر دفورسز سے لڑائی میں داعش کے 132 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی کرد ملیشیا کے ساتھ اتوار سے شدید لڑائی جاری ہے اور اس میں گذشتہ تین روز کے دوران داعش کے ایک سو بتیس جنگجو مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ کرد فورسز نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی سے گذشتہ ماہ داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے بعد اس کے آس پاس واقع ستر دیہات پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

کرد فورسز کو امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی فضائی مدد بھی حاصل ہے اور امریکی اتحادیوں کے لڑاکا طیارے داعش کے جنگجوؤں اور ان کے مورچوں پر مسلسل بمباری کررہے ہیں جس سے کرد جنگجوؤں کو پیش قدمی میں مدد مل رہی ہے۔

داعش کے خلاف جنگ میں شام کے شمال مشرقی سرحدی علاقے کو تزویراتی لحاظ سے اہم قراردیا جارہا ہے کیونکہ سرحد کے دوسری جانب عراق کے علاقے میں بھی داعش کا قبضہ ہے اور اگر ان سے شام کے یہ علاقے چھن جاتے ہیں تو پھر انھیں عراق سے کمک مہیا نہیں ہوسکے گی۔

داعش کے جنگجو ایک جانب کرد ملیشیا کے ساتھ نبردآزما ہیں اور دوسری جانب وہ گذشتہ دو روز کے دوران الحسکہ شہر کے مغرب میں واقع قصبے تل حمیس اور اس کے نواحی دیہات تل تمر،تل ہرمز اور تل شامیرام میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران قدیم آشوری مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک سو پچاس افراد کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے ہیں۔