.

قاہرہ میں متعدد بم دھماکے ،ایک ہلاک ،8 زخمی

ریستوراں،پولیس اسٹیشن اور سیل فون کمپنیوں کے دفاتر پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو پے درپے بم دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

مصری حکام کے مطابق قاہرہ میں حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن اور سیل فون کمپنیوں کے دفاتر کو بم حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور ایک ریستوراں کے باہر بم دھماکے میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔وزارت صحت کے ترجمان حسام عبدالغفار نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں اس شخص کی دونوں ٹانگیں جسم سے الگ ہوگئی تھیں۔

اس واقعے میں دوافراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔اس کے چند گھنٹے کے بعد مصری دارالحکومت کے شمالی علاقے میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر بم دھماکا ہوا ہے جس سے ایک پولیس رنگروٹ اور تین راہ گیر زخمی ہوگئے ہیں۔

قاہرہ میں برطانیہ کی ملکیتی سیل فون کمپنی ووڈا فون اور متحدہ عرب امارات کی ملکیتی اتصالات کے دفاتر کے باہر بھی بم دھماکے ہوئے ہیں۔وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ان بم دھماکوں میں ان دفاتر کے بیرونی حصوں کو نقصان پہنچا ہے اور دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔دھماکوں کے وقت یہ دفاتر بند تھے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ حملہ آوروں نے ریستوراں اور سیل فون کمپنیوں کے دفاتر کو کیوں نشانہ بنایا ہے۔تاہم مصری حکام کا کہنا ہے کہ وہ آیندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل بم دھماکوں کی توقع کررہے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن مصری سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل گروپ صوبہ سیناء پر ماضی میں اس طرح کے حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔اس جنگجو گروپ نے عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض سخت گیر گروپ داعش سے الحاق کررکھا ہے۔

صوبہ سیناء کے نام سے اس گروپ کے جنگجو جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے ملک کے بڑے شہروں اور خاص طور پر جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر بم حملے کررہے ہیں۔

قاہرہ اور دوسرے شہروں میں انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران چھوٹے پیمانے پر متعدد دھماکے کیے ہیں لیکن ان میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ البتہ گذشتہ ماہ اس جنگجو گروپ نے شمالی سیناء کے مختلف شہروں میں پے درپے بم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں تیس سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ایک دن میں مصری سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔