.

شامی اپوزیشن بحران کے حل کے لیے روڈ میپ پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اندرون ملک سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن اور جلاوطن سیاسی جماعتوں اور گروپوں نے خونریز خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ (نقشہ راہ) کے مجوزہ مسودے سے اتفاق کیا ہے۔

شام کی جلاوطن حزب اختلاف کے قومی اتحاد اور اندرون ملک سے تعلق رکھنے والی قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی (این سی سی ڈی سی) کے رہ نماؤں کے درمیان اسی ہفتے کے دوران پیرس میں ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں انھوں نے اتفاق رائے سے روڈ میپ کا مجوزہ مسودہ تیار کیا ہے۔

این سی سی ڈی سی کے انتظامی بیورو کے ایک رکن خلاف داؤد نے بتایا ہے کہ ''یہ پہلا موقع ہے کہ ان دونوں تنظیموں شامی قومی اتحاد اور رابطہ کمیٹی کے درمیان کوئی سمجھوتا طے پایا ہے''۔انھوں نے بتایا کہ ان دونوں اپوزیشن گروپوں کا اتوار اور منگل کو پیرس میں اجلاس ہوا تھا۔اس بات چیت کی فرانس نے میزبانی کی ہے لیکن اس میں کوئی بین الاقوامی مداخلت نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ ''یہ شامیوں کی شامیوں کے ساتھ بات چیت تھی اوراس میں کوئی غیرملکی قوت شریک نہیں تھی۔کوئی بھی ہمارے اجلاس میں موجود نہیں تھا اور یہ ایک اچھی چیز ہے''۔انھوں نے کہا کہ فریقین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام سے متعلق قراردادوں اور سنہ 2012ء کے جنیوا اعلامیے کی روشنی میں نقشہ راہ کا مسودہ تیار کیا ہے۔

جلاوطن شامی قومی اتحاد نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مقصد ایک سول ،جمہوری اور اثباتیت پسند نظام کا قیام ہے جو تمام شامیوں کے لیے مساوی حقوق اور فرائض کی ضمانت دے''۔بیان میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے ضروری ہے۔

شامی قومی اتحاد ملک سے باہر سیاسی گروپوں اور جماعتوں پر مشتمل ہے اور اس کو شامی حزب اختلاف کا حقیقی نمائندہ قراردیا جاتا ہے۔اس کو دنیا کے بیشتر ممالک نے شامی عوام کا جائزہ نمائندہ تسلیم کررکھا ہے۔اس نے ماضی میں اسد حکومت کے ساتھ ناکام مذاکرات کے متعدد ادوار میں حصہ لیا تھا۔اس کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ بشارالاسد ملک میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔

قومی رابطہ کمیٹی شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے لیے قابل قبول حزب اختلاف کا گروہ ہے۔ان دونوں گروپوں کے درمیان جنوری میں قاہرہ میں پہلا اجلاس ہوا تھا لیکن اس میں شامی قومی اتحاد کے نمائندوں نے غیر رسمی طور پر شرکت کی تھی اور ان کے درمیان تب کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا تھا۔

شامی قومی اتحاد صدر بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی کا مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے جبکہ این سی سی ڈی سی کا موقف ہے کہ بحران کے حل کے لیے ایک بااختیار عبوری حکومت تشکیل دی جائے۔تاہم اس نے بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔

خلاف داؤد کا بھی یہ کہنا تھا کہ مجوزہ دستاویز میں جنیوا اعلامیے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ایک بااختیار عبوری حکومت کے قیام پر زوردیا گیا تھا۔امریکا نے پیرس میں شامی حزب اختلاف کے اس اجلاس کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کی اعتدال پسند حزب اختلاف ایک جمہوری شام کے لیے کام کررہی ہے اور یہ ایک مثبت پہلو ہے۔