.

یو این ایلچی کی فائر بندی مذاکرات کے لئے دمشق آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی مسٹورا دمشق حکومت کے ساتھ حلب میں فائر بندی پر مذاکرات کریں گے۔ مسٹر مسٹورا نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ شامی حکومت حلب پر اپنے فضائی حملے اور گولا باری چھ ہفتوں کے لئے بند کرنے کو تیار ہے تاکہ شہر میں فائر بندی کے عبوری معاہدہ کی راہ ہموار ہو سکے۔

دوسری جانب حکومت مخالف شامی جماعتوں اور بشار الاسد کے خلاف برسرپیکار انقلابیوں کے اتحاد کے نمائندے خالد خوجہ نے عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی سے بدھ کے روز ملاقات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ فائر بندی کا مقصد ہلاکتیں اور گولا باری روکنا ہونا چاہے۔ نیز جنیوا ٹو کانفرنس میں طے پانے امور پر عمل درآمد بھی فائر بندی کے اہداف میں شامل ہونا چاہئے۔

خالد خوجہ کا کہنا تھا کہ شامی بحران کے لئے علاقائی یا عالمی سطح پر ہونے والے کوئی بھی کوشش اگر جنیوا مذاکرات میں طے پانے والے فریم ورک کو نظر انداز کر کے کی جائے گی تو اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا اشارہ قاہرہ اور ماسکو میں ہونے والی حالیہ دو ملاقاتوں کی جانب تھا کہ جس میں شامی اپوزیشن نے بشار الاسد کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی۔

یاد رہے کہ ڈی مسٹورا نے گذشتہ برس 30 اکتوبر کو شامی بحران کے حل کے سلسلے میں حلب شہر میں فائر بندی کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا تاکہ علاقے میں امداد پہنچانے سمیت مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔