.

اسرائیلی عوام یاہو کو ووٹ نہ دیں: سابق چیف موساد

'بنجمن نیتن یاہو کی پالسیوں سے تل ابیب خطرے میں ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی 'موساد' کے سابق سربراہ نے اسرائیلیوں پر زور دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نتین یاہو کو اگلے ہفتے منعقد ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ دیں تاکہ وہ دوبارہ اقتدار نہ آنے پائیں۔ موساد کے سابق سربراہ نے الزام لگایا کہ ایران سے متعلق نیتن یاہو کی پالیسیاں اسرائیلی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اسرائیلی اخبار 'یدیعوت احرونوت' کو انٹرویو میں سابق موساد چیف مئیر داغان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں "اسرائیل کے مستقبل اور سلامتی کے لئے تباہ کن" ہیں۔

داغان نے مستقبل قریب میں تل ابیب میں ایک ریلی سے بھی خطاب کرنا ہے جہاں وہ ایک بار پھر نیتن یاہو کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کریں گے۔

مئیر داغان کا کہنا تھا "اس وقت دنیا میں ہماری ساکھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اس وقت اسرائیل کی قانونی حیثیت کا سوال زیر بحث ہے۔ ہمیں اپنے سب سے اچھے دوست کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنے چاہئیے ہیں۔"

نیتن یاہو اگلے ہفتے میں واشنگٹن کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ ریپبلکن ہائوس سپیکر جان بوہنر کی دعوت پر امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کو دعوت خطاب دئیے جانے پر وائٹ ہائوس اور ڈیموکریٹس دونوں لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر اور نائب صدر کا کہنا ہے کہ وہ نتین یاہو کے خطاب میں شرکت نہیں کریں گے۔

داغان کا کہنا تھا "میں امریکا اور اس کے صدر کا مقابلہ کبھی نہ کرتا۔ نیتن یاہو کو کانگریس میں داد مل سکتی ہے مگر تمام طاقت کا منبع وائٹ ہائوس ہے۔ میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ نیتن یاہو کانگریس سے خطاب کر کے کیا حاصل کر لیں گے۔ کیا انہیں صرف یہی داد ہی اکٹھی کرنی ہے؟ میرے خیال میں واشنگٹن کا یہ دورہ ناکام ہو گا۔"

سابق انٹیلی جنس چیف کا کہنا تھا "میں نے اسرائیل کے مختلف سیکیورٹی اداروں میں 45 برس خدمات انجام دی ہیں جن میں اس ملک کو درپیش سب سے مشکل لمحات بھی شامل تھے مگر مجھے یہ محسوس ہورہا ہے کہ ہم اپنے ملک کے وجود اور سلامتی کے سب سے نازک موڑ کر کھڑے ہیں۔"

انہوں نے باصرار کہا کہ انہیں نیتن یاہو کے خلاف کوئی ذاتی عناد نہیں ہے اور برطانوی اخبار "گارڈین" کے مطابق یاہو نے داغان کی جگر کی پیوند کاری میں ان کی مدد کی تھی۔ داغان کا کہنا تھا "مجھے وزیر اعظم سے کوئی ذاتی رنجش نہیں، نہ ہی ان کی اہلیہ اور ان کے خرچوں سے متعلق کوئی اعتراض ہے۔ میں اس ملک کی بات کر رہا ہوں جس کی وہ سربراہی کر رہے ہیں۔"

"امریکی انتظامیہ کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم کو خود سے سوال کرنا ہوگا کہ اس کے خطرات کیا ہیں؟ آبادکاری کے معاملے پر دونوں امریکی پارٹیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی تو اس کے باوجود انہوں نے ہمیں ویٹو کی چھتری تلے رکھا ہوا ہے۔ اگر کسی تصادم کے نتیجے میں یہ چھتری ہٹ جاتی ہے تو بہت ہی قلیل عرصے میں اسرائیل عالمی پابندیوں کا شکار ہوجائے گا۔"

داغان کے مطابق "ایسے تصادم کے خطرات ناقابل برداشت ہوں گے۔ ہم پہلے ہی ایک مہنگی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ میں جانتا ہوں اور ان کو عوام کو نہیں بتا سکتا ہوں۔" نیتن یاہو کی جانب سے بار بار ایران پر حملے کے بیانات پر داغان کا کہنا تھا کہ یہ اس سے زیادہ احمقانہ دھمکی انہوں نے آج تک نہیں سنی ہے۔