.

آئی سی سی میں یکم اپریل کو اسرائیل کے خلاف پہلا کیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین نے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم پر یکم اپریل کو پہلا کیس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد شطیہ نے سوموار کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یکم اپریل کو اسرائیل کے خلاف آئی سی سی میں غزہ میں 2014ء کی جنگ اور غرب اردن میں یہودی آبادکاری کی سرگرمی کے خلاف شکایت دائر کرنے کی صورت میں اہم اقدام کیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ فلسطین نے دو جنوری 2015ء کو آئی سی سی کی رُکنیت اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے درخواست دائر کی تھی۔فلسطینی اتھارٹی نے اپنی اس درخواست میں آئی سی سی سے کہا تھا کہ وہ 13 جون 2014ء کے بعد فلسطینی علاقوں میں رونما ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔اب یکم اپریل کو تین ماہ کے بعد فلسطینی اتھارٹی بطور ریاست آئی سی سی کی رکن بن جائے گی جس کے بعد اسرائیلی حکام کے خلاف ان کے مبینہ جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کی جاسکے گی۔

اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر پی ایل او کے رہ نما کے اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان عمانوایل ناچشن نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ابھی مفروضہ اور قیاس آرائی ہے اور وہ اس پر کچھ نہیں کہیں گے۔

آئی سی سی نے 16 جنوری کو اسرائیل کے غزہ کی پٹی میں جنگی اقدامات کا ابتدائی جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی 8 جولائی سے 25 اگست 2014ء تک غزہ کی پٹی کے شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی مزاحمت کاروں کے جوابی راکٹ حملوں اور ان کے ساتھ جھڑپوں میں چھیاسٹھ صہیونی فوجی اور پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل نے آئی سی سی میں اپنے خلاف درخواست کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی پر اقتصادی پابندیاں لگانا شروع کردی تھیں اور جنوری میں اس کی جانب سے اکٹھی کی جانے والی محصولات کی مد میں ساڑھے بارہ کروڑ ڈالرز کی قسط ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس کے علاوہ اس نے فلسطینیوں کے خلاف امریکا سمیت مختلف مقامات پر مقدمات چلانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

فلسطینی اسرائیل کے خلاف غرب اردن کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیاں تعمیر کرنے پر بھی قانون کارروائی چاہتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کےتحت 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں پر یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات غیر قانونی ہیں۔عالمی برادری ان تعمیرات کو عشروں پرانے فلسطینی تنازعے کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے۔